تجزیہ کاروں کی افغان جھڑپوں کو پاکستان سے جوڑنے کے غیر مصدقہ غیر ملکی میڈیا دعوؤں پر تنقید، دوہرے معیار کی نشاندہی

دفاعی تجزیہ کاروں اور علاقائی سلامتی کے ماہرین نے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی جانب سے حال ہی میں شائع کی گئی ایک رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنڑ اور نورستان میں حالیہ لڑائی کے حوالے سے افغان طالبان حکومت کے غیر مصدقہ الزامات پر انحصار حقائق کے منافی ہے

اسلام آباد۔27ستمبر (اے پی پی):دفاعی تجزیہ کاروں اور علاقائی سلامتی کے ماہرین نے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی جانب سے حال ہی میں شائع کی گئی ایک رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنڑ اور نورستان میں حالیہ لڑائی کے حوالے سے افغان طالبان حکومت کے غیر مصدقہ الزامات پر انحصار حقائق کے منافی ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ رائٹرز اور دیگر میڈیا اداروں کی رپورٹ میں ان داخلی جھڑپوں کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ اس میں قابل تصدیق زمینی حقائق اور افغانستان میں جاری داخلی انتشار کو نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے طالبان وزارت دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے بیانیے میں موجود سنگین تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ خود افغان طالبان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں گرفتار یا ہلاک ہونے والے افراد مقامی افغان شہری تھے۔ایک ماہر نے کہاکہ ان افراد کی ظاہری حالت، صاف ستھرے لباس اور مختلف روایتی ملبوسات اس دعوے سے واضح طور پر مطابقت نہیں رکھتے کہ وہ دشوار گزار اور دور افتادہ علاقوں میں سرگرم جنگجو تھے، بالخصوص سرد موسم میں جب ایسے علاقوں میں بھاری گرم لباس ضروری ہوتا ہے۔تجزیہ کاروں نے امکان ظاہر کیا کہ یہ افراد حراست کے دوران قتل کیے گئے قیدی یا داخلی تشدد کی زد میں آنے والے مقامی شہری ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ طالبان حکومت اب تک ایسا قابل اعتماد ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے ان افراد کی پاکستانی شہریت یا جنگجو ہونے کا ثابت ہو سکے۔ماہرین نے بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ میں نظر آنے والے دوہرے معیار پر بھی تنقید کی اور کوریج میں واضح جانبداری کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین سے جاری سرحد پار دہشت گردی کے نتیجے میں صرف 2026 کے دوران 1,327 پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 2,484 زخمی ہوئے، تاہم انسانی جانوں کے اس بھاری نقصان اور پاکستان مخالف دہشت گرد ڈھانچے کے ٹھوس شواہد کو غیر ملکی میڈیا میں بہت کم یا کوئی نمایاں جگہ نہیں دی جاتی۔مزید برآں تجزیہ کاروں نے واضح کیا کہ بدخشان، نورستان اور کنڑ کے بعض علاقوں میں جاری تنازع بنیادی طور پر داخلی نوعیت کا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ قندہاری طالبان کی جانب سے مقامی کانوں، معدنیات اور وسائل کے جارحانہ استحصال کے خلاف اندرونی مزاحمت ہے۔ماہرین نے کہا کہ داعش، اے ایف ایف، این آر ایف، اے یو ایف اور دیگر مقامی دھڑے جولائی سے حکومت کی غیر مقامی فورسز کے خلاف سرگرم مزاحمت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں داخلی حکمرانی کی ناکامیوں اور وسائل کے تنازعات کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانے کی کوشش حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔