وفاقی تعلیمی اداروں میں سائنس لیبارٹریز کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ

فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای)نے سائنس کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے سرکاری سکولوں اور کالجوں میں سائنس لیبارٹریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا ہے

اسلام آباد۔27ستمبر (اے پی پی):فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای)نے سائنس کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے سرکاری سکولوں اور کالجوں میں سائنس لیبارٹریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا ایک بڑا منصوبہ شروع کیا ہے۔وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے مطابق اس اقدام کا مقصد طلبہ کو عملی تجربہ اور جدید سائنسی سہولیات فراہم کرنا ہے۔اس منصوبے کے تحت موجودہ سائنس لیبارٹریوں کی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور طلبہ کے لیے عملی سرگرمیوں کے مواقع بھی بڑھائے جا رہے ہیں۔وزارت کا کہنا ہے کہ جدید لیبارٹریز طلبہ میں سائنسی سوچ، تحقیق اور تجرباتی سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ماتحت 22 تعلیمی اداروں کی 30 لیبارٹریوں کو جدید بنایا گیا ہے۔اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح وفاقی وزیر تعلیم نے اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز، F-8/4 میں کیا۔ اسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز، G-11/1 میں جدید ترین آئی ٹی اور کمپیوٹر لیب قائم کی گئی ہے۔ اس مرحلے میں شامل دیگر اداروں میں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز اور دیہی علاقوں کے ہائیر سیکنڈری اسکول اور ماڈل کالجز شامل ہیں۔مجموعی طور پر 15 مشترکہ سائنس لیبز، 6 فزکس لیبز، 5 کیمسٹری لیبز اور 4 بیالوجی لیبز کو نئی ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر لیس کیا گیا ہے۔منصوبہ کے اگلے مرحلہ میں، حکومت نے مزید سیکنڈری سکولوں کو کالج کی سطح پر اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں اس تعلیمی سیشن سے کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنیکل ایجوکیشن (انٹر ٹیک) کے پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں۔لڑکوں کے جن سکولوں کو اب ماڈل کالجز کا درجہ دیا گیا ہے ان میں اسلام آباد ماڈل اسکول فار بوائز G-10/3 ، I-14 ، G-9/1، گولڑہ اور ترلائی کے سکول شامل ہیں۔ لڑکیوں کے جن سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے ان میں اسلام آباد ماڈل اسکول فار گرلز سنجانی ، پنڈ ملکاں اور این ایچ سی شامل ہیں۔روایتی کورسز کے علاوہ طلبہ کو جدید مہارتیں سکھانے کے لیے جدید کمپیوٹر اور آئی ٹی لیبز بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ ان میں پائتھن پروگرامنگ، جاوا اسکرپٹ، بلاک چین، آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز اور ڈیٹا ویژولائزیشن جیسے جدید ٹیکنالوجی کے کورسز شامل ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ٹائپ-اےکی 30 لیبز کو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور ٹائپ-بی کی 106 لیبز کو جدید کروم بکس سے لیس کیا گیا ہے جبکہ طلبہ کی تربیت کے لیے 150 ٹیک فیلوز بھی تعینات کیے گئے ہیں