وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ریلوے ٹریکس کی حفاظت و بہتری، جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، تجاوزات کے خاتمے، سکریپ کی تلفی اور آمدن میں مزید اضافے کے لیے مقررہ اہداف پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں بروقت مکمل کریں
وزیر ریلوے حنیف عباسی کا ٹریکس کی بہتری، تجاوزات کے خاتمے اور آمدن بڑھانے کے اہداف پر سختی سے عملدرآمد کا حکم

مزید خبریں
لاہور۔27ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ریلوے ٹریکس کی حفاظت و بہتری، جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، تجاوزات کے خاتمے، سکریپ کی تلفی اور آمدن میں مزید اضافے کے لیے مقررہ اہداف پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریاں بروقت مکمل کریں۔یہ ہدایات انہوں نے اتوار کو پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹرز لاہور میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر نے ریلوے ٹریک سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے مختلف تجاویز پیش کیں۔ وفاقی وزیر نے تمام ڈویژنل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی کہ فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر کی تجاویز پر 20 اکتوبر تک عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں روہڑی جنکشن کی اپ گریڈیشن کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ روہڑی جنکشن کی اپ گریڈیشن کا کام 25 دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیر ریلوے نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔محمد حنیف عباسی نے ریلوے نظام میں موجود سکریپ کو بھی جلد از جلد ٹھکانے لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ 31 دسمبر تک ریلوے سسٹم میں موجود تمام سکریپ کو ڈسپوز کیا جائے۔ انہوں نے وے برجز پر اوورلوڈنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس حوالے سے موصول ہونے والی ہر شکایت پر فوری کارروائی کی جائے اور مقررہ وزن سے زائد سامان کی ترسیل کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔وفاقی وزیر نے ڈویژنوں میں جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے بھی اہم فیصلے کرتے ہوئے کہا کہ ہیڈکوارٹرز آفس ڈویژنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ڈیمانڈ کا 72 گھنٹے کے اندر جواب دینے کا پابند ہوگا تاکہ منصوبوں اور دیگر ضروری امور میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کیا جا سکے۔انہوں نے ریلوے اراضی پر قائم تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا اور واضح کیا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں وہ ریلوے عملے کے ساتھ کھڑے ہیں، اس سلسلے میں کسی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کو کامیاب بنانے کے لیے نیب اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت بھی حاصل کی جا رہی ہے۔محمد حنیف عباسی نے اپ گریڈ ہونے والی ٹرینوں کے ریک کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جس ٹرین کا ریک اپ گریڈ کیا جائے، اسے کسی صورت تبدیل نہ کیا جائے تاکہ مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور سروس کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس میں پاکستان ریلویز کی مالی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 26 ارب روپے کی آمدن حاصل کرنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریلوے انتظامیہ کو شاباش دی اور ہدایت کی کہ آمدن میں مزید اضافے، اخراجات میں کمی اور مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں۔







