اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):وزارت خزانہ نے کہاہے کہ موجودہ دور حکومت میں معیشت پائیدار بنیادوں پراستوارہورہی ہے، تحریک انصاف کی حکومت کلی معیشت کو پائیداربنانے میں کامیاب رہیٍ۔ کووڈ۔19 اور کئی دہائیوں کے بعد اشیا کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کے باوجود پاکستانی معیشت نے سب سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے، مالی سال کے باقی چھ ماہ میں نمو 5 فیصد ، برآمدات 31 ارب ڈالر، …
تحریک انصاف کی حکومت کلی معیشت کو پائیداربنانے میں کامیاب رہیٍ،وزارت خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):وزارت خزانہ نے کہاہے کہ موجودہ دور حکومت میں معیشت پائیدار بنیادوں پراستوارہورہی ہے، تحریک انصاف کی حکومت کلی معیشت کو پائیداربنانے میں کامیاب رہیٍ۔ کووڈ۔19 اور کئی دہائیوں کے بعد اشیا کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کے باوجود پاکستانی معیشت نے سب سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے،
مالی سال کے باقی چھ ماہ میں نمو 5 فیصد ، برآمدات 31 ارب ڈالر، ترسیلات زر 32 ارب ڈالر اورٹیکس 6,000 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔وزارت خزانہ کی طرف سے سال کے اختتام اورنئے سال کی آمد کی مناسبت سے قومی معیشت کے بارے میں جاری تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ ماضی میں معیشت میں اتارچڑھاوکے چکر کے برعکس موجودہ حکومت کے دورمیں معیشت پائیدار بنیادوں پراستوارہورہی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت کلی معیشت کو پائیداربنانے میں کامیاب رہیٍ۔ کووڈ۔19 اور کئی دہائیوں کے بعد اشیا کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کے باوجود پاکستانی معیشت نے سب سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے،جس کی پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
پاکستان کی کلی معیشت کی کارکردگی کو تمام بین الاقوامی میکرو اکنامک مالیاتی اداروں بشمول آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک ، موڈیز، ایس اینڈ پی اور فچ نے بڑے پیمانے پرسراہا ہے اوراس کی تائیدوتوثیق کی ہے۔کورونا وائرس کی عالمگیروبا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی حکومت کی پالیسی اوراقدامات بڑے پیمانے پر سراہا اور تسلیم کیا گیا۔ معروف میگزین اکنامسٹ پاکستان کو ورلڈ نارملسی انڈیکس میں پہلے نمبر پر رکھا ہے کیونکہ پاکستان نے کووڈ۔19 وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عائد کردہ زیادہ تر پابندیوں کو ختم کر دیا ہے۔
اس فہرست میں نائجیریا، برطانیہ اور جرمنی کا نمبر پاکستان کے بعد آتا ہے ۔ حکومت نے وبا سے نمٹنے کیلئے ملکی تاریخ کا سب سے بڑاسماجی تحفظ کاپروگرام ترتیب دیا۔ وبا سے نمٹنے کیلئے سماجی تحفظ فراہم کرنے کے حوالہ سے عالمی بینک کی رپورٹ میں زیادہ شہریوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبرپر اور100 ملین سے زیادہ افراد کوتحفظ فراہم کرنے والے ممالک میں تیسرے نمبرپر ہے۔
عالمی بینک نے کہا ہے کہ صرف چند ممالک نے اس سلسلے میں چھ ہندسوں کی سطح حاصل کی ہے۔ پاکستان کا احساس ایمرجنسی کیش پروگرام ان میں سے ایک ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق مالیاتی مسائل کے باوجود وبا کے حوالہ سے پاکستان کا ردعمل دنیا کےدیگر ممالک کے مقابلہ میں سب سے زیادہ موثر اور بروقت تھا۔
وزیراعظم عمران خان نیسمارٹ لاک ڈاؤن کا تصوردیا جس سے معیشت میں نمو کی راہ ہموار ہوئی۔ وبا سے متاثرہ عوام اورکاروبارکو کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے پی ٹی آئی کی حکومت اور سٹیٹ بینک نے موثراقدامات کئے، حکومت نے کووڈ۔19 کے سماجی و اقتصادی اثرات کو کم کرنے کیلئے 1,240 ارب روپے کا بڑا مالی امدادی پیکج جاری کای، سٹیٹ بینک کی طرف سے مجموعی طور پر 2,073 ارب روپے کا ریلیف پیکج دیا گیا جس میں ہسپتالوں اور نئی صنعتی سرمایہ کاری کے لیے مالیاتی معاونت کی سہولت متعارف کرائی گئی۔
ملازمین کی اجرتوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے روزگار سکیم متعارف کرائی گئی، قرض لینے والوں کو قرضہ کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی گئی۔سٹیٹ بینک نے نے پالیسی ریٹ میں 625 بیسس پوائنٹ کی کمی کی۔ بجلی کے بلوں میں 46 ارب روپے اور ایس ایم ایز کو 50.6 بلین روپے کی رعایت دی گئی۔ 2020 اور 2021 میں موسم سرما کے ٹیرف میں بالترتیب 11.97 روپے فی کلوواٹ اور 12.96 روپے فی کلوواٹ آور کی کمی کی گئی ۔
احساس پروگرام کے تحت 80 لاکھ خاندانوں ریلیف فراہم کیا گیا جو ماضی میں 37 لاکھ خاندان تھا، احساس پروگرام کے تحت 2021 میں کل 232 ارب روپے کے فنڈز کا اجراء کیا گیا جو2014 میں 102 ارب روپے تھا۔ میرا پاکستان میرا گھر سکیم کے تحت 106 ارب روپے قرضہ جات کی فراہمی عمل میں لائی گئی۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت نے توقعات سے زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جی ڈی پی کی نمو 4 فیصد رہی، ٹیکس وصولی اہداف سے زیادہ رہی،زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی جبکہ 2011 کے بعد حسابات جاریہ کا خسارہ سب سے کم رپورٹ ہواہے۔یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ امریکا میں 3.7 فیصد، بھارت 8 فیصد، ایران 6.5 فیصد اوربرطانیہ میں 10 فیصدسکڑاو کے برعکس پاکستان میں اقتصادی نموہوئی ہے۔
پاکستان کی معاشی ترقی وسیع البنیاد ہے۔ 2.1 فیصد ہدف کے مقابلے میں شرح نمو 3.94 فیصد رہی۔اسی طرح زراعت 2.77 فیصد، صنعت میں 3.57، اور خدمات 4.43 فیصدکی نموہوئی ہے۔ سال 2021 میں ریکارڈ بمپر فصلیں دیکھنے میں آئیں اور یہ رجحان ا ٓئندہ سال بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ رواں سال چاول 8.4 ملین ٹن (پچھلے سال 7.4 ملین ٹن)، مکئی 8.5 ملین ٹن (گزشتہ سال 7.9 ملین ٹن)،
گندم 27.5 ملین ٹن (گزشتہ سال 25.2 ملین ٹن) اور کپاس کی 7.1 ملین گانٹھوں کی پیداوارحاصل ہوئی۔ 2022 میں گنے کی 87.7 ملین ٹن، گندم کی 28.9 ملین ٹن، اور چاول کی 8.8 ملین ٹن پیداوار متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق 2021 کے دوران شرح سود زیادہ تر 7 فیصد کی شرح سے برقراررہی جس سے نجی شعبے کو حوصلہ ملا۔ 2021 کی تیسری سہ ماہی میں کے ایس ای -100 کا ٹیکس کے بعد مجموعی منافع 258 بلین روپے ہے جو پچھلے 10 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر نے مالی سال 21 میں 929 بلین روپے کا ریکارڈ منافع کمایا، جو کہ 2018 میں 587 بلین روپے تھا ۔ مجموعی طور پر نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 247 فیصد اضافہ ہواہے (جولائی-2018 سے دسمبر 21 کے دوران 69,380 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی، مسلم لیگ ن کے دورمیں 19,996 کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی تھی۔
پاکستان میں رجسٹرڈ کل 157,000 کمپنیوں میں سے 44 فیصد کمپنیاں پی ٹی آئی کے 3 سالوں میں کارپوریٹ سیکٹرمیں شامل ہوئی ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں رئیل اسٹیٹ 494 فیصد، آئی ٹی کے شعبہ میں 194 فیصد اور سیاحت کے شعبہ میں 136 فیصد کی بڑھوتری ہوئی ہے۔ ترسیلات اور برآمدات مالی سال 2019-20 کی پری کووڈ۔19 سطح سے زیادہ ہیں۔
اس کے نتیجے میں، مالی سال 2021 میں حسابات جاریہ کاخسارہ 10 سال کی کم ترین سطح 1.9 ارب امریکی ڈالر پر پہنچ گیا۔سامان کی برآمدات 25.6 بلین ڈالر تک پہنچی، جو کہ 14 فیصد زیادہ ہے۔مالی سال 2021 میں پچھلے دس سالوں میں پہلی بار، برآمدات کے اشارے امید افزا نظر آ رہے ہیں اور اوسط ماہانہ برآمدات اب مسلم لیگ (ن) کے دور کے 2 ارب ڈالر سے 3 ارب ڈالر کے قریب ہے۔خدمات کی برآمدات ایک اور شعبہ ہے جہاں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ مالی سال 21 میں خدمات کی برآمدات بھی 10 فیصد اضافہ ہواہے جس کا حجم 5.9 ارب ڈالرہے ۔
مسلم لیگ (ن) کے دورحکومت کے مقابلہ میں آئی ٹی شعبہ کی برآمدات دگنی ہو گئی ہیں اور اس حکومت کی مدت کے اختتام تک 300 فیصد اضافے سے 3.5 بلین امریکی ڈالر سے 4 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ترسیلات زر میں ریکارڈاضافہ ہواہے ،
گزشتہ مالی سال میں ترسیلات زرکاحجم 29.4 ارب ڈالرتک پہنچ گئی جوپیوستہ مالی سال میں 23.1 ارب ڈالرتھیں ۔وزارت خزانہ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی تین سالوں میں غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی گئی تاہم اجناس کی قیمتوں کے حالیہ جھٹکے نے درآمدات میں اضافہ کیا۔ درآمدات میں 80 تا 85 فیصد اضافہ قیمتوں اور 15 سے20فیصد اقتصادی ترقی کے مطابق مقداری ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی محصولات میں مالی سال 2021 میں ریکارڈ نمو ہوئی،
نان ٹیکس ریونیو 1,630 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے مالی سال 2020 کے 8.1 فیصد سے کم ہوکر جی ڈی پی کے 7.1 فیصد تک گرگیا۔ پرائمری بیلنس مالی سال میں جی ڈی پی کے 1.8 فیصد کی سطح پرتھا جو مالی سال 2021 میں 1.4 فیصد کی سطح پرآگیا۔ ٹیکس وصولیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے ،
اسسال 6 ٹریلین روپے ٹیکس ہدف حاصل کرنے کا امکان ہے، بہترین ٹیکس وصولی کی وجہ سے پرائمری بیلنس میں رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں 206 ارب روپے کا سرپلس رپورٹ ہواہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2022 کے بجٹ کے بعد اجناس کی عالمی قیمتیں بڑھ گئیں، جس سے کرنسیوں پر دباؤ بڑھا اور پوری دنیا میں مہنگائی میں اضافہ ہوا، عالمی ادارہ خوراک کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا جو 10 سالوں کی بلندترین سطح ہے ۔ نومبر 2021 میں پاکستان میں صارفین کیلئے قیمتوں کاحساس اشاریہ 11.5 فیصد تک پہنچ گیا حال ہی میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ پیاز 25 ،
دال مونگ 25، ٹماٹر 17، انڈے 10، چکن 10 اور آلو کی قیمت میں 8 فیصد کی کمی ہوئی، آٹے، چاول اور چینی کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت، حکومت نے 14.8 ملین ان مستحقین کو 12,000 روپے کی فوری نقد امداد فراہم کرنے کے لیے 179.3 بلین روپے تقسیم کیے ہیں جن کی روزی روٹی وبائی امراض سے شدید متاثر ہوئی۔
حکومت نے 220 بلین روپے سے زائد کے پاور سیکٹر کے واجبات اور 250 بلین روپے سے زیادہ کے ریفنڈز کی منظوری دی، بجلی کی فراہمی بلاتعطل رہی، نتیجتاً برآمدات اور صنعتی پیداوار کی نمو دوہرے ہندسے میں رہی، طویل عرصے کے بعد فصلوں کی پیداوار اور قیمتوں میں نمو سے دیہی معیشت مضبوط ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کردہ تعمیراتی پیکج سے ملک میں تعمیراتی شعبہ کو فروغ ملا ہے ۔
ایک سال میں 1,000 ارب روپے سے زائد کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ڈیموں کی تعمیر شروع کی گئی جس سے پانی کا ذخیرہ موجودہ 13 ملین ایکڑ فٹ سے دوگنا ہو جائے گا اور 10,000 میگا واٹ بجلی کا اضافہ ہو گا۔ صحت کے محاذ پر مجموعی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیاگیا، 150 ملین سے زیادہ ویکسین لگائی گئی ہیں۔
صوبائی تعاون کے بغیر ویکسین پر 2 ارب ڈالر کے قریب خرچ ہوئے۔ سماجی اور معاشی پروگرام شروع کیے گئے ،ٹیکسٹائل، آٹو، اور ایس ایم ای پالیسیاں متعارف کروائی گئی۔ وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے باقی چھ ماہ میں نمو 5 فیصد ، برآمدات 31 ارب ڈالر، ترسیلات زر 32 ارب ڈالر اورٹیکس 6,000 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے ۔








