اسلام آباد ۔ 5 جنوری (اے پی پی) تحقیقی ادارہ مسلم انسیٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام گول میز کانفرنس میں شرکاءنے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمہ کےلئے فوری مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے مشرق وسطی استعماری طاقتوں کے ہاتھوں میدان جنگ بنا ہوا ہے، عوام کی حالت زار کو سدھارنے کےلئے عرب حکمرانوں کو ہنگامی بنیادوں پر اور دور اندیشی کے ساتھ …
تحقیقی ادارہ مسلم انسیٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام گول میز کانفرنس کے شرکاءکا مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمہ کےلئے فوری مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 جنوری (اے پی پی) تحقیقی ادارہ مسلم انسیٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام گول میز کانفرنس میں شرکاءنے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمہ کےلئے فوری مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے مشرق وسطی استعماری طاقتوں کے ہاتھوں میدان جنگ بنا ہوا ہے، عوام کی حالت زار کو سدھارنے کےلئے عرب حکمرانوں کو ہنگامی بنیادوں پر اور دور اندیشی کے ساتھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار تحقیقی ادارہ مسلم انسیٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام راﺅنڈ ٹیبل ڈسکشن بعنوان ”مشرق وسطی کی بگڑتی صورتحال اور عرب حکمرانوں کےلئے پالیسی آپشنز“ میں سینیٹ میں لیڈر آف ہاﺅس راجہ ظفر الحق، فلسطین کے سفیر ولید ابو علی، سابق سفیر عامر شادانی، پروفیسر ڈاکٹر سلسوک کولاکوگلو، الجزیرہ ٹی وی کے صحا فی عبدالرحمن متر، ڈاکٹر محمد خان، سابق سفیروں یونس خان، افضل اکبرخان، جاوید حفیظ اور اشتیاق اندرابی، میجر جنرل (ر) رضا محمد، ڈاکٹر اسٹوان گرمیٹی، سابق سفیر فوزیہ نسرین اور ڈاکٹر حسن یاسر ملک نے کیا۔ مقررین نے مزید کہا کہ مشرق وسطی میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جن میں اکثر بچے اور خواتیں شامل ہیں یورپی ممالک کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ مشرق وسطی میں زندگی گزارنے کےلئے سہولیات اور مواقع کی شدید کمی اور بحران ہے-







