ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ سجاد حیدر نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکئی کی اگیتی اقسام کی کاشت 20 اگست تک مکمل کر لیں تاکہ فصل بہتر نشوونما پا سکے اور زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔
سیالکوٹ، کاشتکاروں کو مکئی کی اگیتی اقسام کی کاشت 20 اگست تک مکمل کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
سیالکوٹ۔31جولائی (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ سجاد حیدر نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکئی کی اگیتی اقسام کی کاشت 20 اگست تک مکمل کر لیں تاکہ فصل بہتر نشوونما پا سکے اور زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔
اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاشتکار مکئی کی کاشت کے لیے بھاری میرا اور زرخیز زمین کا انتخاب کریں اور محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام، جن میں صدف، ساہیوال 2002، اگیتی 2002 اور ہائبرڈ ایف ایچ 810 شامل ہیں، کی بروقت کاشت یقینی بنائیں۔انہوں نے بتایا کہ بہتر پیداوار کے حصول کے لیے ڈرل کے ذریعے کاشت کی صورت میں 12 سے 15 کلوگرام، کھیلیوں پر کاشت کی صورت میں 8 سے 10 کلوگرام جبکہ چارے کی فصل کے لیے 40 سے 50 کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کیا جائے۔سجاد حیدر نے کہا کہ زمین کی تیاری کے وقت 10 سے 15 گڈے یا 4 سے 5 ٹرالی اچھی طرح گلی سڑی گوبر کی کھاد ڈالنے سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے اور فصل کی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آبپاش علاقوں میں فاسفورس اور پوٹاش کی مکمل مقدار اور نائٹروجن کا پانچواں حصہ بوائی کے وقت استعمال کیا جائے، جبکہ بارانی علاقوں میں تمام کھاد بوائی کے وقت ہی ڈال دی جائے۔انہوں نے کہا کہ مکئی کی زیادہ اور معیاری پیداوار کے لیے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی نہایت ضروری ہے، کیونکہ جڑی بوٹیاں فصل کی غذائی ضروریات اور پانی میں حصہ دار بن کر پیداوار کو متاثر کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مکئی کی کاشت سنگل رو کاٹن ڈرل کے ذریعے سوا دو سے اڑھائی فٹ کے فاصلے پر کی جا سکتی ہے، جبکہ موسمی مکئی میں فی ایکڑ 28 سے 30 ہزار پودوں کی تعداد برقرار رکھنا اور کاشت سیدھی قطاروں میں کرنا بہتر نتائج کے لیے ضروری ہے۔ کاشتکار مکئی کی کامیاب کاشت سے متعلق مزید معلومات، تکنیکی مشاورت اور رہنمائی کے لیے محکمہ زراعت (توسیع) کے فیلڈ سٹاف سے رابطے میں رہیں۔







