صدرمسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان نے کہا ہے کہ راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز اور سول آبادی کی اموات اور نقصان پر دلی رنج و غم، دکھ اور تکلیف کا اظہار کرتے ہیں،جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ اور ورثا کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز اور شہریوں کی اموات پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں،سردار عتیق

مزید خبریں
اسلام آباد۔31جولائی (اے پی پی):صدرمسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان نے کہا ہے کہ راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز اور سول آبادی کی اموات اور نقصان پر دلی رنج و غم، دکھ اور تکلیف کا اظہار کرتے ہیں،جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ اور ورثا کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
موجودہ صورتحال پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم بجا طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اس تمام تر نقصان کی ذمہ داری کالعدم تنظیم کی موجودہ قیادت پر ہے جنھوں نے گزشتہ پانچ چھے دہائیوں میں پہلی بار اشتعال انگیزی، تشدد، بدامنی اور قتل و غارت گری کی سیاست کو متعارف کروایا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کی پرامن فضا کو عوامی مطالبات اور مسائل کی تحریک کی آڑ میں منظم منصوبہ بندی کے تحت بدامنی کا شکار کیا گیا،جس کی تمام تر ذمہ داری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی موجودہ قیادت کو قبول کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میری کالعدم تنظیم کی قیادت سے اپیل ہے کہ وہ مزید کسی پنجہ آزمائی اور نقصان سے بچنے اور معصوم اور بے گناہ انسانوں کی جان و مال کو مزید خطرے میں ڈالنے کے بجائے خود کو قانون کے حوالے کریں۔انہوں نے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ آزادکشمیر کی عدلیہ کی شاندار تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان میں سے کسی کے ساتھ بھی کوئی بے جا زیادتی یا ناانصافی نہیں ہوگی۔ اس لئے ہم یہ مطالبے کرنے میں پوری طرح حق بجانب ہیں کہ آئین قانون اور ریاست کے باغیوں اور موجودہ قتل و غارت گری کے ذمہ داران کو جتنا جلد ممکن ہو قانون کی گرفت میں لیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آزاد کشمیر کےکسی بے گناہ اور معصوم شہری کے جان مال کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور پریشان کن ہے۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ معصوم اور بے گناہ شہریوں مردوں،عورتوں اور بچوں سب کی جان مال عزت و آبرو کی تحفظ کے تقاضے پورے کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ انسانی جان عام سول آبادی کے کسی شہری کی ہو یا سکیورٹی فورسز میں سے کسی کی، ہمارے نزدیک ایک سے بڑھ کر ایک زیادہ قابل احترام ہے۔ آزادکشمیر میں سیکورٹی فورسز کی موجودگی آزاد کشمیر کے سپریم کورٹ کے فیصلے اور ہدایت کی روشنی میں ہے جو آزادکشمیر میں انتخابی جمہوری عمل کے دوران امن و امان قائم رکھنے کی ذمہ داری پوری کررہے ہیں۔سردار عتیق نے کہا کہ ہماری دعا یے کہ اللہ تعالٰی سکیورٹی فورسز کو بدامنی پیدا کرنے والے عناصر کو قانون کی گرفت میں لینے اور امن و امان کی بحالی کے لئے کی جانے والی کوششوں میں کامیابی عطا کرے۔







