مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے امن مذاکرات کی پیش کش غیر حقیقی اور بدنیتی پر مبنی ہے،کشمیری قیادت ،پاکستان اور بھارت تینوں کی شرکت کے بغیر مذاکرات بے معنی ہونگے ترجمان دفتر خارجہ کا امن مذاکرات کی بھارتی پیشکش پر تبصرہ اسلام آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی) دفتر خارجہ کے ترجمان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے امن مذاکرات کی پیش کش کو غیر …
ترجمان دفتر خارجہ کا امن مذاکرات کی بھارتی پیشکش پر تبصرہ

مزید خبریں
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے امن مذاکرات کی پیش کش غیر حقیقی اور بدنیتی پر مبنی ہے،کشمیری قیادت ،پاکستان اور بھارت تینوں کی شرکت کے بغیر مذاکرات بے معنی ہونگے
ترجمان دفتر خارجہ کا امن مذاکرات کی بھارتی پیشکش پر تبصرہ
اسلام آباد ۔ 24 اکتوبر (اے پی پی) دفتر خارجہ کے ترجمان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے امن مذاکرات کی پیش کش کو غیر حقیقی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری،پاکستان اور بھارت مسلہ کشمیر کے اہم فریق ہیں اور تینوں کی شرکت کے بغیر مذاکرات بے معنی ہونگے۔اسی تناظر میں حریت قیادت کی شرکت کے بغیر کوئی بھی مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہونگے۔منگل کو ترجمان نے امن مذاکرات کی بھارتی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی اقدام حقیقت پسندانہ اور مخلصانہ دکھائی نہیں دیتا۔ترجمان نے کہا کہ امن مذاکرات کو بامعنی اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے اس میں تینوں فریقوںکشمیریوں،پاکستان اور بھارت کی شرکت ضروری ہے۔اسی تناظر میں حریت قیادت کی شرکت کے بغیر کوئی بھی رابطے اور یا مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہونگے۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا خاتمہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے امنگوںکے مطابق مذاکرات کے زریعے جموں و کشمیر کے تنازعہ کا پر امن حل وقت کی ضرورت ہے۔ترجمان نے کہا کہ یہ جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے۔امید ہے کہ عالمی برادری کشمیر کا دیرینہ تنازعہ حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریگی۔گزشتہ روز بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کشمیریوں سے مذاکرات کا اعلان کرتے ہوئے بھارتیانٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو کشمیر کیلئے مذاکرات کار مقرر کیا ہے،تاہم حریت کانفرنس نے بھارتی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پر پاکستان کے بغیر بھارت سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔








