ترقیاتی منصوبوں کی مدت مقرر کرنے اور اخراجات کی نگرانی کیلئے نئی قانون سازی لائیں گے، مزمل اسلم

ترقیاتی منصوبوں کی مدت مقرر کرنے اور اخراجات کی نگرانی کیلئے نئی قانون سازی لائیں گے، مزمل اسلم

پشاور۔ 23 جون (اے پی پی):مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ عوامی وسائل کے شفاف استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے نئی قانون سازی کی جا رہی ہے، جبکہ اخراجات اور ترقیاتی سکیموں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے گا۔صوبائی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے خرچ ہونے والی رقم پر مؤثر نگرانی اور عوامی فیڈبیک کا باقاعدہ نظام ہونا چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام شہری تک پہنچ رہے ہیں یا نہیں انہوں نے بتایا کہ حکومت اے آئی اتھارٹی متعارف کرا رہی ہے جو اخراجات اور بلوں کی تصدیق سمیت مالی معاملات کی نگرانی میں معاونت فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور لاگت میں اضافے کے مسئلے کا مستقل حل صرف قانون سازی ہے۔

مزمل اسلم نے تجویز دی کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت 10 کروڑ روپے تک کے منصوبے زیادہ سے زیادہ تین سال، ایک ارب روپے تک کے منصوبے چار سال اور اس سے بڑے منصوبے پانچ سال کے اندر مکمل کرنا لازمی ہو۔ انہوں نے کہا کہ جب تک منصوبوں کی مدت کے تعین سے متعلق قانون نہیں بنایا جاتا، ترقیاتی سکیموں میں غیر ضروری تاخیر اور اخراجات میں اضافہ جاری رہے گا۔اس موقع پر سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے استفسار کیا کہ کیا اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ایس او پی بھی مرتب کیا جائے گا،

جس پر مشیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ اصلاحات کے تحت واضح قواعد و ضوابط متعارف کرائے جائیں گےمزمل اسلم نے قرضوں کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے قرضوں کے حصول کی شرح تقریباً نصف کر دی ہے۔ تاہم ماضی کے قرضوں کی وجہ سے صوبے کو 5 سے 6 ارب روپے اضافی چارجز کی مد میں ادا کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایک نیا قانونی فریم ورک متعارف کرا رہی ہے جس کے تحت قرضوں پر شرح سود کو پانچ فیصد تک محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر کسی منصوبے کے لیے اس سے زیادہ شرح سود پر قرض لینے کی ضرورت پیش آئی تو معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا، جبکہ کابینہ کی منظوری کے باوجود سات فیصد سے زائد شرح سود پر قرض لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔قبل ازیں رکن صوبائی اسمبلی سجاد اللہ خان نے کوہستان کے تین اضلاع کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج دینے پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے “تھرو فارورڈ” تخمینوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے علاقے میں ایک منصوبے کی تکمیل میں اوسطاً ساڑھے چودہ سال لگ جاتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقم اور اس کے عوامی فوائد کا جائزہ لینے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یا آزادانہ جانچ کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ سرکاری سرمایہ کاری کے حقیقی ثمرات عوام تک کس حد تک پہنچ رہے ہیں۔اسمبلی میں اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، مالی شفافیت اور عوامی نگرانی کا مؤثر نظام صوبے کی ترقی اور بہتر حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے