تمام صوبوں کے پی ایم اینڈ ڈی سی حکام اور جامعات کے وی سیز ایم ڈی کیٹ کے امتحان کو آزاد، منصفانہ اور شفاف طریقے سے منعقد کریں، وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن سید مصطفیٰ کمال نے تمام صوبوں کے پی ایم ڈی سی حکام اور جامعات کے وی سیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ 26 اکتوبر 2025 کو منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ کے امتحان کو آزاد، منصفانہ اور شفاف طریقے سے منعقد کرائیں، کل 1,40,129 امیدوار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے …

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن سید مصطفیٰ کمال نے تمام صوبوں کے پی ایم ڈی سی حکام اور جامعات کے وی سیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ 26 اکتوبر 2025 کو منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ کے امتحان کو آزاد، منصفانہ اور شفاف طریقے سے منعقد کرائیں، کل 1,40,129 امیدوار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے لئے رجسٹر ہو چکے ہیں جو ملک بھر کے سرکاری و نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز و یونیورسٹیوں میں 22,000 نشستوں کے لئے امتحان دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی ) کے ہیڈ آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کل 1,40,129 امیدوار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) کے لئے رجسٹر ہو چکے ہیں جو ملک بھر کے سرکاری و نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز و یونیورسٹیوں میں 22,000 نشستوں کے لئے امتحان دیں گے، یہ امتحان پورے ملک میں 32 مقامات پر منعقد کیا جائے گا جن میں ایک بین الاقوامی مرکز (ریاض، سعودی عرب) بھی شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ پی ایم اینڈ ڈی سی نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ایم ڈی کیٹ کے لئے ایک متحدہ قومی نصاب اور 6,000 سے زائد معیاری سوالات پر مشتمل آئٹم بینک تیار کیا ہے، یہ نصاب ملک بھر کے وائس چانسلرز اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا۔ جامعات نے اسی قومی آئٹم بینک سے اپنے اطمینان کے مطابق سوالات تیار کئے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر ایم ڈی کیٹ کا پرچہ لیک ہوا تو اس کی ذمہ داری متعلقہ صوبائی حکومت اور یونیورسٹی پر عائد ہوگی۔وفاقی وزیر نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ عوام میں امتحان سے متعلق آگاہی بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے پی ایم اینڈ ڈی سی کے صدر، رجسٹرار اور امتحانی شعبے کو بہترین آئٹم بینک تیار کرنے پر سراہا۔ایم ڈی کیٹ۔2025 پورے پاکستان میں ہر صوبے اور علاقے کی نامزد سرکاری جامعات کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔ امتحان کے انتظام، انعقاد اور نتائج سے متعلق تمام امور متعلقہ جامعات کی ذمہ داری ہوں گے تاہم یہ تمام کام پی ایم اینڈ ڈی سی کے مقرر کردہ معیار اور فریم ورک کے مطابق انجام پائیں گے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی نے مزید وضاحت کی کہ اگر کوئی امتحان لینے والی یونیورسٹی امتحان کے شفاف اور منظم انعقاد میں ناکام رہی یا اگر پرچہ لیک ہونے، نصاب سے ہٹنے یا شفافیت میں کمی کا کوئی واقعہ پیش آیا تو تمام تر ذمہ داری اسی یونیورسٹی پر عائد ہوگی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ امتحان کے بہتر اور موثر انعقاد کے لئے کل مختص رقم کا 50 فیصد پہلے ہی جامعات کو جاری کر دیا گیا ہے تاہم اگر کسی قسم کی بے ضابطگی یا بدانتظامی پائی گئی تو باقی 50 فیصد رقم روک لی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ شفافیت، علاقائی سہولت اور منظم امتحانی انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے کیا گیا ہے، ہر یونیورسٹی اپنے دائرہ اختیار میں امتحانی اتھارٹی کے طور پر کام کرے گی اور پی ایم اینڈ ڈی سی کے طے کردہ قواعد، نصاب اور سکیورٹی پروٹوکولز پر مکمل عملدرآمد کرے گی۔پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے نمبرز کم از کم 50 فیصد وزن کے ساتھ سرکاری و نجی میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے شمار کئے جائیں گے، یہ پورے ملک میں قابلِ قبول ہوں گے اور تین سال کے لئے درست رہیں گے۔

جامعات کو امتحان کے پیشگی (pre-hoc) اور بعد از امتحان (post-hoc) تجزیے کرنے ہوں گے تاکہ کوئی بھی سوال غلط یا نصاب سے باہر نہ ہو۔تمام جامعات کو امتحان کے لئے جامع انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جن میں مناسب امتحانی مراکز کی فراہمی، جن میں بیٹھنے، ہوا کی نکاسی، ٹھنڈک/گرمی، اور پینے کے پانی کی سہولت ہو، الیکٹرانک آلات کو روکنے کے لئے جیمبرز کی تنصیب،انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر واک تھرو گیٹس اور سکیورٹی عملہ کی تعیناتی،امتحانی عملے کی تربیت اور ان کی مناسب معاوضہ ادائیگی، پرچوں کی تیاری، طباعت، اور محفوظ ترسیل کے سخت انتظامات ، والدین کے لئے انتظار گاہ، طلبہ کی تصدیق کے کاؤنٹرز اور دیگر سہولیات کی فراہمی تاکہ امتحان کا عمل پرسکون اور محفوظ طریقے سے مکمل ہو سکے، شامل ہیں۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ 2025 کا نصاب اور کورس تمام جامعات میں مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔

مزید برآں پی ایم اینڈ ڈی سی نے وضاحت کی ہے کہ اگرچہ امتحان کے انتظامی اور عملی پہلوؤں کی ذمہ داری جامعات پر ہوگی تاہم امیدواروں کی رجسٹریشن، پالیسی کی نگرانی، اور نتائج کی توثیق کا اختیاری حق صرف پی ایم اینڈ ڈی سی کے پاس ہوگا تاکہ قومی سطح پر یکسانیت اور میرٹ پر مبنی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔