تمام مسائل کا حل اتحاد اور بین المذاہب ہم آہنگی میں پنہاں ہے، موجودہ حکومت اس سلسلے میں عملی اقدامات کر رہی ہے، کھیئل داس کوہستانی

کراچی۔7جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ آج ہمارے معاشرے کو درپیش تمام مسائل کا واحد حل اتحاد اور ہم آہنگی میں ہے اور موجودہ حکومت اس سلسلے میں عملی اقدامات کر رہی ہے۔وہ ہولی ٹرنٹی کیتھیڈرل چرچ میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مذاہب کے درمیان باہمی مفاہمت کی حکمت عملی کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس …

کراچی۔7جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ آج ہمارے معاشرے کو درپیش تمام مسائل کا واحد حل اتحاد اور ہم آہنگی میں ہے اور موجودہ حکومت اس سلسلے میں عملی اقدامات کر رہی ہے۔وہ ہولی ٹرنٹی کیتھیڈرل چرچ میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مذاہب کے درمیان باہمی مفاہمت کی حکمت عملی کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔کھیئل داس کوہستانی نے کہا کہ وفاقی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی قیادت سردار محمد یوسف کر رہے ہیں جو ایک سینئر سیاستدان ہیں اور پہلے بھی اس وزارت میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارت مذہبی امور اقلیتوں کی بہبود اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے میں اپنے صوبہ سندھ میں موجودہوں جہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے معتبر علماء اور نمائندے جمع ہیں، مجھے سب کے خیالات اور نظریات سننے کا موقع ملا ۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور رواداری کے فروغ کو یقینی بنائیں گے، حکومت نے اقلیتوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے سالانہ فنڈز بھی مختص کیے ہیں۔وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ جب تمام مذاہب کے درمیان اتحاد ہوگا تو ہمیں ایسی کانفرنسیں منعقد کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، ایک دوسرے کے مذاہب اور تعلیمات کو سمجھنے سے ہمیں عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اور وفاقی وزارت مذہبی امور اقلیتوں کو ان کے تہوار منانے میں مکمل تعاون فراہم کرتی ہے، ریاست ان اصولوں پر کھڑی ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے 14 اگست 1947ء سے تین دن قبل وضع کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بھی اقلیتی تہواروں میں شرکت کی جس سے دنیا کو یہ پیغام گیا کہ ہم سب اقلیتوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا، ایسی کانفرنسیں بین الاقوامی سطح پر ہونی چاہئیں تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ پاکستان مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کتنی کوششیں کر رہا ہے۔

کھیئل داس نے کہا کہ دنیا دیکھے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود امن سے رہ رہا ہے اور امن کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اس کے تکبر کو ہماری پاکستانی مسلح افواج نے چکنا چور کر دیا ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی ڈاکٹر شام سندر ایڈوانی نے کہا کہ ہم سب قائد اعظم کے اس پاکستان میں ہم آہنگی اور محبت کے ساتھ رہتے ہیں، ہر مذہب کی اپنی خوبصورتی ہے، پیدا ہونے والا ہر بچہ پہلے انسان ہوتا ہے اور بعد میں اپنے خاندان کا مذہب اپناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا وژن بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ ہے، سندھ صوفیاء اور محبت کرنے والوں کی سرزمین ہے۔بشپ فریڈرک جان نے کہا کہ آج کے دور میں ایسے پروگراموں کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا کو مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کا درس دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کرسمس کے موقع پر سکیورٹی فراہم کرنے پر تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا۔معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر جمیل راٹھور نے کہا کہ ہمیں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے، انسانی حقوق کا تحفظ اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔ غزہ میں مظالم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہودیوں نے بھی ان مظالم کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک شخص یا شخصیت پورے مذہب کی نمائندگی نہیں کرتی۔ڈاکٹر شبیر حسین نے کہا کہ پاکستان میں اکثریت کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کی بھی اہمیت اور احترام ہے، اسلام میں کوئی جبر نہیں، اگر کسی مسیحی پر حملہ ہوتا ہے تو ہم اسے خود پر حملہ تصور کرتے ہیں۔

مفتی محمد قصوری نے کہا کہ یہ کانفرنس قومی اور بین الاقوامی سطح پر مثبت پیغام دے گی، اسلام ’جیو اور جینے دو‘ کے اصول پر یقین رکھتا ہے، ایک چرچ میں جمع ہو کر بین المذاہب ہم آہنگی پر بات کرنا خود ہم آہنگی کی ایک بڑی مثال ہے۔سکھ برادری کے نمائندے سردار رمیش نے کہا کہ پاکستان نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور راہداری کھولی لیکن بھارت نے اسے بند رکھا ہوا ہے، بھارت کو بھی امن کی بات کرنی چاہیے اور راہداری کھولنی چاہیے۔

رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر مہیش کمار نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کو تمام مذاہب کے بارے میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کے ساتھ دوسروں کے عقائد کا احترام بھی کرنا چاہیے تاکہ ہم بہتر طور پر ان کے حقوق کا تحفظ کر سکیں۔