تنازعات اور ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توجہ توانائی کے تحفظ پر مرکوز ہو گئی ہے، سینیٹر محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ جغرافیائی و سیاسی تنازعات اور ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توجہ توانائی کی منتقلی سے بڑھ کر توانائی کے تحفظ کے فوری چیلنج کی جانب مرکوز ہو گئی ہے، ادویات کی قابلِ استطاعت قیمتوں، تجارتی پائیداری اور فراہمی کے تسلسل کے درمیان توازن کی ضرورت ہے، لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں …

نیویارک۔23ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ جغرافیائی و سیاسی تنازعات اور ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توجہ توانائی کی منتقلی سے بڑھ کر توانائی کے تحفظ کے فوری چیلنج کی جانب مرکوز ہو گئی ہے، ادویات کی قابلِ استطاعت قیمتوں، تجارتی پائیداری اور فراہمی کے تسلسل کے درمیان توازن کی ضرورت ہے، لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیش رفت قابل تشویش ہے۔ انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر مختلف شخصیات سے ملاقاتوں اور مذاکروں میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیر خزانہ نے توانائی کے تحفظ، ایوی ایشن کے شعبے میں تعاون، صحت کے پروگرام پر عملدرآمد اور موسمیاتی مالیات کے حوالے سے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا۔وزیر خزانہ نے عالمی اقتصادی فورم کے زیرِ اہتمام “نئی معیشت میں ترقی کو توانائی فراہم کرنے” کے موضوع پر اعلیٰ سطحی مکالمے میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ جاری جغرافیائی و سیاسی تنازعات اور ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توجہ توانائی کی منتقلی سے بڑھ کر توانائی کے تحفظ کے فوری چیلنج کی جانب مرکوز ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں نمایاں توسیع ہوئی ہے جس میں بڑی حد تک نجی شعبے نے کردار ادا کیا، یہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ توانائی کی فراہمی کے حصول میں مشکلات کے وسیع تر معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ توانائی کا تحفظ غذائی تحفظ اور مجموعی معاشی مضبوطی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے بوئنگ گلوبل کے صدر ڈاکٹر برینڈن نیلسن سے بھی ملاقات کی جس میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے کی جدیدکاری اور پاکستان کے ایوی ایشن کے شعبے میں وسیع تر تعاون پر گفتگو ہوئی۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بوئنگ کی جانب سے پی آئی اے کو نئے طیاروں کی خریداری کے لیے نظرثانی شدہ تجویز پیش کرنے کی تصدیق کا خیرمقدم کیا، طیاروں کی جلد ترسیل کے ممکنہ مواقع اور عبوری طور پر طیارے لیز پر لینے کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ملاقات میں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی جانب سے مالی معاونت، انجنوں کی خریداری، سپیئر پارٹس، دیکھ بھال اور گراؤنڈ کیے گئے طیاروں کی بحالی سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

وزیرِ خزانہ نے پی آئی اے کی نجکاری اور بڑے ہوائی اڈوں کے انتظام کو آؤٹ سورس کرنے کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ایوی ایشن سیفٹی کی استعدادِ کار، ضابطہ جاتی امور میں تعاون اور امریکا کے لیے براہِ راست پروازوں کی بحالی میں بوئنگ کی معاونت کو سراہا جبکہ پاکستان میں ایوی ایشن کے شعبے کی طویل مدتی ترقی کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ایبٹ کے فارماسیوٹیکل ڈویژن کے نمائندے سے ملاقات میں وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام پر عملدرآمد اور فارماسیوٹیکل شعبے سے متعلق وسیع تر امور پر گفتگو کی۔ انہوں نے پروگرام کی سست پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 30 لاکھ خریدے گئے تشخیصی ٹیسٹس میں سے صرف ایک لاکھ کے قریب استعمال کیے گئے ہیں جس کی وجوہات میں قیادت میں تبدیلی، منصوبے کے انتظام میں کمزوریاں اور عوامی آگاہی کی محدود سطح شامل ہیں۔

وزیرِ خزانہ نے مصر کے بڑے پیمانے پر سکریننگ پروگرام میں معاونت کے تجربے کی بنیاد پر ایبٹ کی جانب سے فراہم کی جانے والی تکنیکی معاونت کو سراہا۔ ملاقات میں ڈریپ کی ضابطہ جاتی صلاحیت میں بہتری، فارماسیوٹیکل برآمدات میں تنوع، کینسر کے علاج کے حوالے سے ایبٹ کے منصوبوں اور مشکل حالات سے متعلق ادویات کی قیمتوں کے معاملات کے حل میں تاخیر پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے ادویات کی قابلِ استطاعت قیمتوں، تجارتی پائیداری اور فراہمی کے تسلسل کے درمیان توازن کی ضرورت کو تسلیم کیا اور پروگرام پر عملدرآمد سے متعلق مسائل پاکستان میں متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانے اور پیش رفت تیز کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

وزیرِ خزانہ نے اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام ’’کلائمیٹ فنانس پر سلوشنز ڈائیلاگ‘‘ میں بھی شرکت کی جہاں انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کی شدید حساسیت اور خطرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قابلِ اعتماد موسمیاتی موافقت اور آفات سے نمٹنے کے فریم ورک، ابتدائی انتباہی نظام، موسمیاتی حکمتِ عملیاں اور قابلِ عمل منصوبوں کی پائپ لائن تشکیل دے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا آغاز ملکی معاشی استحکام اور مناسب مالیاتی و بیرونی گنجائش سے ہونا چاہیے جبکہ بین الاقوامی معاونت قومی وسائل کی تکمیل کرے۔

انہوں نے پاکستان کی متنوع مالیاتی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس میں ملکی وسائل کے ساتھ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی سے معاونت، گرین انسٹرومنٹس کے ذریعے کیپٹل مارکیٹس تک رسائی اور نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری شامل ہے۔وزیرِ خزانہ نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا اور گرین کلائمیٹ فنڈ سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ منظوری، ایکریڈیٹیشن اور فنڈز کی فراہمی کے طریقۂ کار کو آسان بنائیں تاکہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو کلائمیٹ فنانس تک زیادہ مؤثر اور تیز رفتار رسائی حاصل ہو سکے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح ہفتے کے دوسرے روز وزیرِ خزانہ کی ملاقاتوں اور مکالموں میں پاکستان کی معاشی اور ترقیاتی ترجیحات کے اہم شعبوں، بشمول توانائی کے تحفظ، ایوی ایشن، صحت اور موسمیاتی مالیات، پر توجہ مرکوز رہی۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کی جاری کوششوں کو اجاگر کرنے، بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانے اور مزید تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔