توانائی منتقلی اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں معاشی استحکام اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے ، شزرہ منصب علی خان کھرل

اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شزرہ منصب علی خان کھرل نے کہا ہےکہ توانائی منتقلی اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں معاشی استحکام اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے ،کوئلے پر مسلسل انحصار اب ملک کے لئے مالی اور تجارتی بوجھ بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کوپالیسی ادارہ برائے پائیدار …

اسلام آباد۔25جنوری (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شزرہ منصب علی خان کھرل نے کہا ہےکہ توانائی منتقلی اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں معاشی استحکام اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے ،کوئلے پر مسلسل انحصار اب ملک کے لئے مالی اور تجارتی بوجھ بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کوپالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی اسلام آباد کے زیرِ اہتمام کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی نئی معاشی افادیت پر مشاورتی ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیرِ مملکت نے بتایا کہ پاکستان ترقیاتی شراکت داروں، بالخصوص چین کے ساتھ ایسے جامع حل تلاش کر رہا ہے جو منصفانہ، ماحول دوست اور پائیدار منتقلی کو یقینی بناتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو بھی مضبوط رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ توانائی منتقلی کی حکمتِ عملی حقیقت پسندی، فکری دیانت اور قابلِ عمل اہداف پر مبنی ہونی چاہئے تاکہ صاف اور ماحول دوست توانائی کی طرف موثر پیش رفت ممکن ہو سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ روزگار کے تحفظ اور کارکنوں کی نئی مہارتوں کی تربیت کے جامع پروگراموں کے بغیر یہ منتقلی منصفانہ اور پائیدار نہیں ہو سکتی ۔ویبنار کی نظامت ایس ڈی پی آئی کی محقق زینب بابر نے کی۔ انہوں نے کہا کہ اس مکالمے کا مقصد کوئلے کے انفراسٹرکچر کو نئےاستعمال میں لانے کے لئے ایک مضبوط معاشی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ ماہرینِ توانائی اور پالیسی سازوں نے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو نئے مقاصد کے لئے استعمال کو پاکستان کے مالی استحکام، برآمدی مسابقت اور ماحولیاتی وعدوں کی تکمیل کے لئے ناگزیر قرار دیا۔

اس سے قبل ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ فیلو اور توانائی ماہر ڈاکٹر خالد ولید نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات پر انحصار کرنے والی سیمنٹ، سٹیل اور سٹیل کی صنعتیں، آئندہ برسوں میں کاربن اخراج کی بنیاد پر کڑی جانچ کا سامنا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ کوئلہ جو کبھی توانائی تحفظ کی علامت تھا اب ماحولیاتی قوانین کے اس نئے عالمی نظام میں ایک سنگین مالی اور تجارتی خطرہ بن چکا ہے۔ڈاکٹر خالد ولید نے تجویز دی کہ بجلی پیدا کرنے والے کوئلے کے پلانٹس ”سنکرونس کنڈینسرز“ میں تبدیل کئے جائیں۔

گریفتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر کرسٹوف نیڈوپل وانگ نے کہا کہ اگر درست مالی ڈھانچے کے تحت کوئلے کے بجلی گھروں کو وقت سے پہلے ریٹائر کیا جائے تو یہ عمل مالی فائدہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قرض کے بدلے قابلِ تجدید توانائی اورقرض کے بدلے ترقی جیسے ماڈلز ماحولیاتی اہداف کو سرمایہ کاروں کے مفادات کےساتھ ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔وزارتِ توانائی کے سینئر نمائندے نے بتایا کہ انٹیگریٹڈ جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (IGCEP) کے تحت بجلی کی نئی منصوبہ بندی میں تقریباً 8 ہزار میگاواٹ کی کمی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ دہائی میں پاکستان کی کاربن شدت میں نمایاں کمی متوقع ہے اور ملک 2035 تک 60 فیصد سے زیادہ صاف توانائی کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ورلڈ بینک کے بریگیڈیئر (ر) راجہ شوزاب نے زور دیا کہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے معاملے میں ری پرپوزنگ کے عملی امکانات جانچنے کے لیے جامع لاگت و فائدہ تجزیہ ناگزیر ہے۔لندن سکول آف اکنامکس کے انٹرنیشنل گروتھ سینٹر کے ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ٹِم ڈوبرمین نے کہا کہ گرمیوں میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کےلئے قابلِ تجدید توانائی سب سے تیز اور موثر راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت رسد اور طلب دونوں جانب مناسب مراعات موجود نہیں، اس لیے اسمارٹ ٹیرف ڈھانچوں کی ضرورت ہے تاکہ پیک ڈیمانڈ کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکے اور گرڈ مینجمنٹ مضبوط ہو۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر سگندھا سری واستو نے کہا کہ کوئلے کے قرضوں پر کسی بھی قسم کی ازسرِ نو گفت و شنید موجودہ معاہداتی ڈھانچوں کے اندر مراعات کی ہم آہنگی کے ساتھ ہونی چاہئے۔ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکوی ٹیبل ڈویلپمنٹ کے منصور احمد نے مطالبہ کیا کہ کوئلے کے پلانٹس کی ری پرپوزنگ سے حاصل ہونے والی مالی بچت کو کمیونٹی کی ملکیت والے سولر منصوبوں، پانی کی فراہمی کے تحفظ اور مقامی ترقی کے لئے مختص کیا جائے۔