توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات اور پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کا حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کا عزم

توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات اور پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے مشترکہ طور پر ملک میں حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے قومی سطح پر ازسرِ نو اور مشترکہ عزم کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ ہر بچہ ویکسین کے ذریعے قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رہے

اسلام آباد۔24اپریل (اے پی پی):توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات اور پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے مشترکہ طور پر ملک میں حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لیے قومی سطح پر ازسرِ نو اور مشترکہ عزم کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ ہر بچہ ویکسین کے ذریعے قابلِ انسداد بیماریوں سے محفوظ رہے۔ جاری پریس ریلیز کے مطابق عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات24 تا 30 اپریل تک جاری رہے گا اس سال کا موضوع ہر نسل کے لیے ویکسین مؤثر ہے رکھا گیا ہے۔ یہ موضوع ویکسینز کی اس طاقت کو اجاگر کرتا ہے جو افراد، خاندانوں اور معاشروں کو آنے والی نسلوں تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس تناظر میں اس بات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ ہر بچے کو قومی حفاظتی ٹیکہ جات کے شیڈول کے مطابق ویکسین کی مکمل خوراکیں فراہم کی جائیں، تاکہ بچوں کی صحت کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے، بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور عوامی صحت کے نتائج کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ ڈائریکٹر جنرل، توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر موسیٰ خان نے کہا کہ معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات ایک صحت مند قوم کی بنیاد ہیں ،اس بات کو یقینی بنانا کہ ہر بچے کو تمام ویکسین بروقت ملیں، جو نہ صرف انفرادی تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ مضبوط معاشروں کی تشکیل کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔

پاکستان میں توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات 13 قابلِ انسداد بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے، جن میں تپ دق (ٹی بی)، ڈفتھیریا، کالی کھانسی (پرٹوسس)، تشنج (ٹیٹنس)، ہیپاٹائٹس بی، ہیموفیلس انفلوئنزا ٹائپ بی (Hib)، نیوموکوکل بیماری، خسرہ، روبیلا اور روٹا وائرس سے ہونے والا اسہال شامل ہیں۔ اگرچہ یہ زندگی بچانے والی ویکسینز تک رسائی کے فروغ میں ایک نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے، تاہم معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج میں اب بھی خلا موجود ہے، خصوصاً پسماندہ اور زیادہ خطرے سے دوچار علاقوں میں، جس کے باعث کچھ بچے اب بھی مکمل تحفظ سے محروم رہ جاتے ہیں۔اس وسیع تر حفاظتی ٹیکہ جات کی کوششوں کے تحت، پاکستان پولیو کے خاتمے کے حوالے سے مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔ ملک میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز میں 99.8 فیصد سے زائد کمی آئی ہے، جو 1990 کی دہائی میں تقریباً 20,000 کیسز سے کم ہو کر 2026 میں صرف 1 کیس تک رہ گئی ہے۔ ملک پولیو کی منتقلی کے مکمل خاتمے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی واضح مثال ہے کہ ویکسینز بچوں کو قابلِ تدارک بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں کس قدر مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، محترمہ عائشہ فاروق نے کہا کہ عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مسلسل ویکسی نیشن کی کوششوں نے پاکستان کو پولیو اور دیگر قابلِ انسداد بیماریوں کے خاتمے کے قریب تر کر دیا ہے۔

تاہم اس سفر کے آخری مرحلہ پر تمام والدین، دیکھ بھال کرنے والے افراد اور کمیونٹی کی مسلسل حمایت درکار ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہر بچہ پولیو ویکسین کے ساتھ ساتھ معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس بھی بروقت مکمل کرے، تاکہ وہ صحت مند، مضبوط اور بہتر زندگی گزار سکے۔توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی ) اور پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام (پی ای آئی ) باہمی اشتراک کے ذریعے ملک بھر میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کی خدمات اور ملک گیر پولیو مہمات کے ذریعے لاکھوں بچوں تک رسائی جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ زندگی بچانے والی ویکسین تک ہر بچے کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔پروگرام والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس بروقت مکمل کرائیں اور ہر پولیو مہم کے دوران انہیں پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے لازمی پلوائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی رہنماؤں، مذہبی اسکالرز، سول سوسائٹی اور اداروں سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ویکسین ٹیموں کی حمایت کریں تاکہ ہر بچے تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکے۔حفاظتی ٹیکوں کے تمام پہلوؤں میں پائیدار عزم بچوں کے تحفظ اور ایک صحت مند، زیادہ مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔