توشہ خانہ ریفرنس میں نامزد ملزمان نے بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا، نیب

اسلام آباد ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) جعلی بینک سکینڈل کے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی، سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید نے بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا۔ نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر کئے گئے ریفرنس کے مطابق جعلی بینک سکینڈل کے توشہ …

اسلام آباد ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) جعلی بینک سکینڈل کے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی، سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید نے بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا۔ نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر کئے گئے ریفرنس کے مطابق جعلی بینک سکینڈل کے توشہ خانہ ریفرنس میں ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف 4 فروری 2019ءکو انکوائری کی منظوری دی تھی۔ انکوائری کے دوران معلوم ہوا کہ مذکورہ ملزم نے غیر قانونی طریقہ سے ذاتی فائدہ حاصل کیا اور غیر قانونی طور پر انہیں مختلف ممالک اور غیر ملکی شخصیات کی جانب سے تحفہ میں دی گئی گاڑیوں کی قیمت کی ادائیگی میں فائدہ پہنچایا گیا اور انہوں نے گاڑیوں کی مجموعی قیمت کا صرف 15 فیصد ادا کرکے گاڑیاں حاصل کیں۔ مذکورہ ملزم نے خواجہ انور مجید اور خواجہ عبدالغنی مجید کے ذریعے ان گاڑیوں کی قیمت کی ادائیگی کی جس کا وہ کوئی جواز پیش نہ کر سکے۔ انویسٹی گیشن کے دوران معلوم ہوا کہ مذکورہ رقوم غیر قانونی منی لانڈرنگ کے تناظر میں حاصل کی گئی۔ سابق وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے 2008ءسے 2012ءکے دوران دیگر ملزموں کی ملی بھگت سے غیر ملکی شخصیات سے ملنے والے تحائف کو مذکورہ افراد کو دینے کے حوالہ سے قواعد و ضوابط میں نرمی کی۔ مذکورہ ملزم کی جانب سے قواعد کی نرمی کا فائدہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اٹھایا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے 2008ءمیں متحدہ عرب امارات سے آرمرڈ گاڑیاں، بی ایم ڈبلیو 750، لیبیا سے لیکسس جیپ اور بی ایم ڈبلیو حاصل کیں۔ اس تحفہ کو فوری طور پر کابینہ ڈویژن کے توشہ خانہ میں جمع کرانا ان کی ذمہ داری تھی تاہم انہوں نے اس حوالہ سے نہ ہی کابینہ ڈویژن کے توشہ خانہ کو آگاہ کیا اور نہ ہی ان گاڑیوں کو توشہ خانہ میں جمع کرایا اور ان گاڑیوں کو غیر قانونی طریقہ سے استعمال کیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے 2008ءمیں سابق وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی سے غیر قانونی طور پر قواعد میں نرمی حاصل کرکے اپنے تحائف کو غیر قانونی طریقہ سے حاصل کیا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ خواجہ انور مجید نے میسرز انصاری شوگر ملز لمیٹڈ کے اکاﺅنٹس سے 23 اپریل 2009ءکو سلک بینک کراچی میں سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے سرکاری بینک اکاﺅنٹ میں رقوم جمع کرائیں۔ مذکورہ ملزم نے سابق صدر آصف علی زرداری کی ایماءپر قومی خزانہ میں ایک کروڑ 11 لاکھ روپے زائد رقم جمع کرائی۔ خواجہ عبدالغنی مجید نے سابق صدر آصف علی زرداری کو تحفہ میں ملنے والی گاڑیوں پر 37.16 ملین روپے کی کسٹم ڈیوٹی کلیکٹر کسٹم اسلام آباد کو جمع کرائی، یہ ادائیگیاں تین پے آرڈرز کے ذریعے کی گئیں۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ مذکورہ ملزمان نے منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کی ہے۔ مذکورہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں جس کی بنیاد پر ان کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر کیا گیا۔