تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور چین کے مابین دو طرفہ تعاون اور روابط کا فروغ ناگزیر ہے ،مخدوم شاہ محمود قریشی

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور چین کے مابین دو طرفہ تعاون اور روابط کا فروغ ناگزیر ہے ، دونوں ممالک کی قیادت پاکستان چین اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے منصوبوں کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ …

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور چین کے مابین دو طرفہ تعاون اور روابط کا فروغ ناگزیر ہے ،
دونوں ممالک کی قیادت پاکستان چین اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے منصوبوں کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو اپنے چینی ہم منصب وانگ ژی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ بات چیت کے دوران دو طرفہ تعلقات، کرونا وبائی لہر اور خطے میں امن و امان کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے چینی ہم منصب کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین گہری اور مثالی دوستی کو خطے میں امن و استحکام کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، ون چائنہ پالیسی سمیت قومی سلامتی سے متعلق چین کی داخلی پالیسیوں کی حمایت کرتا ہے۔تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور چین کے مابین دو طرفہ تعاون اور روابط کا فروغ ناگزیر ہے مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ
خوشی کی بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت پاکستان چین اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے منصوبوں کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کرونا وبا کی روک تھام اور کرونا ویکسین کی تیاری کے حوالے سے چین کی خدمات قابل تحسین ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی چین کی تیار کردہ ویکسین کا ٹرائل کیا جا رہا ہے ۔دونوں وزرائے خارجہ نے زراعت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے، تحقیقی اور علمی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چینی صدر کے جلد دورہ پاکستان کے متمنی ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی ہندوتوا پالیسیوں پر عمل پیرا مودی سرکار، پورے ایشیائی خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے ۔وزیر خارجہ نے بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیری عوام کے استحصال اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا تسلسل رکوانے کیلئے عالمی برادری کی جانب سے فوری کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے حوالے سے بھی خصوصی تبادلہ خیال ہوا۔دونوں وزرائے خارجہ نے بین الافغان مذاکرات کے انعقاد اور قواعد و ضوابط پر اتفاق کو مثبت اور خوش آئند قرار دیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے اور مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید خبریں