ایس ایم ایز ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی، جی ڈی پی میں 40 فیصد اور غیر زرعی روزگار میں 80 فیصد حصہ دار ہیں، سیدال خان

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ پاکستان میں 71 لاکھ 40 ہزار سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار(ایس ایم ایز)ملکی معیشت کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں جو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی)میں تقریباً 40 فیصد، برآمدات میں 30 فیصد اور غیر زرعی روزگار میں 80 فیصد سے زائد کا غیر معمولی حصہ ڈالتے ہیں۔

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ پاکستان میں 71 لاکھ 40 ہزار سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار(ایس ایم ایز)ملکی معیشت کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں جو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی)میں تقریباً 40 فیصد، برآمدات میں 30 فیصد اور غیر زرعی روزگار میں 80 فیصد سے زائد کا غیر معمولی حصہ ڈالتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ ’’انٹرنیشنل ایس ایم ایز ایکسیلینس ایوارڈز 2026‘‘ کی پروقار تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار محض تجارتی سرگرمیاں نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کی اصل ریڑھ کی ہڈی ہے، جب ہم کسی چھوٹے کاروبار کو مضبوط کرتے ہیں تو دراصل ایک پورے خاندان، کمیونٹی اور پاکستان کے معاشی مستقبل کو مستحکم بناتے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی کے لیے صرف ملازمتیں تلاش کرنے والے نہیں بلکہ ملازمتیں پیدا کرنے والے نوجوان درکار ہیں، پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں محض روایتی تعلیم کے بجائے جدید ہنر، ٹیکنالوجی، سرمایہ، تربیت اور عالمی منڈیوں تک رسائی کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے کاروباری آئیڈیاز کو قومی اور بین الاقوامی برانڈز میں تبدیل کر سکیں۔سیدال خان ناصر نے چھوٹے تاجروں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے آسان اور کم لاگت فنانسنگ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومتی سطح پر ایس ایم ای فنانسنگ، سٹیٹ بینک کے ریگولیٹری فریم ورک اور "2026–28 ایکسس ٹو فنانس پلان” کے تحت ترجیحی بنیاد پر قرضوں کی فراہمی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ مالیاتی پالیسیوں کے فوائد کاغذوں سے نکل کر عملی طور پر چھوٹے کاروباری افراد تک پہنچیں۔انہوں نے خواتین کی معاشی شمولیت کو ناگزیر قرار د یتےہوئے کہا کہ خواتین انٹرپرینیورز کو فنڈز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مارکیٹ تک رسائی دے کر معاشی کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مقامی مصنوعات کو ای کامرس اور جدید معیار کے ذریعے عالمی ویلیو چین کا حصہ بنانے پر زور دیا تاکہ ملکی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کاروباری برادری کو یقین دہانی کرائی کہ پارلیمان کاروبار دوست ماحول، شفاف نظام اور مستحکم پالیسیوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے راولپنڈی چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کے صدر سردار ثاقب نسیم، چیئرمین ایوارڈ کمیٹی محمد رؤف راجہ اور ایوارڈ حاصل کرنے والے نمایاں کاروباری افراد و اداروں کو شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی