حکومت کا خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں 400 تالاب اور منی ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ

حکومت نے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے وسیع تر اقدامات کے تحت خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں 48 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے 400 پختہ تالاب اور منی ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری نے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے، سطحی کنوؤں، کاریزوں اور چیک ڈیموں سمیت پانچ مختلف اقدامات تجویز کئے …

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):حکومت نے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے وسیع تر اقدامات کے تحت خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں 48 ارب روپے کے تخمینہ لاگت سے 400 پختہ تالاب اور منی ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری نے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے، سطحی کنوؤں، کاریزوں اور چیک ڈیموں سمیت پانچ مختلف اقدامات تجویز کئے ہیں جن کی مجموعی تخمینہ لاگت 56 ارب 80 کروڑ روپے ہے۔ دستاویزات کے مطابق 400 پختہ تالابوں اور منی ڈیموں کی تعمیر مجوزہ اقدامات کا سب سے بڑا حصہ ہے جس کے لئے مجموعی رقم میں سے 48 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ اس منصوبے کو طویل مدتی اقدام کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔

وزارت نے مٹی کے کٹاؤ کو کم کرنے کے لئے چیک ڈیموں کی تعمیر پر 6 ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ اس اقدام کو درمیانی مدت کے منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔سندھ میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے روایتی مقامی ذخائر ٹینکوں کے لئے ایک ارب 20 کروڑ روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ اسے قلیل مدتی اقدام قرار دیا گیا ہے۔مجوزہ منصوبوں میں کھلے سطحی کنوؤں کی کھدائی کے لئے بھی ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں اور اسے بھی قلیل مدتی اقدام کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ بلوچستان میں روایتی کاریزوں کی کھدائی، پختگی اور صفائی کے لئے 60 کروڑ روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ کاریزوں سے متعلق اس اقدام کو طویل مدتی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر ان پانچ مجوزہ اقدامات پر 56 ارب 80 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں صرف 400 پختہ تالابوں اور منی ڈیموں کی تعمیر کا حصہ مجموعی مجوزہ اخراجات کا تقریباً 85 فیصد بنتا ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ اقدامات بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور آبی وسائل کے تحفظ کے مختلف طریقوں پر مشتمل ہیں جن میں مقامی طرز کے بارشی ذخائر، روایتی کاریزوں، پختہ تالابوں، منی ڈیموں، سطحی کنوؤں اور چیک ڈیموں کا استعمال شامل ہے۔

مجوزہ مدتِ عمل کے تحت ٹانکوں اور کھلے سطحی کنوؤں کو قلیل مدتی، چیک ڈیموں کو درمیانی مدتی جبکہ 400 پختہ تالابوں اور منی ڈیموں کی تعمیر اور کاریزوں کے کام کو طویل مدتی اقدامات میں شامل کیا گیا ہے۔

 

مزید خبریں