علمائے کرام ثالثی کے ذریعے معاشرتی تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، عائشہ رسول

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):علمائے کرام اپنی کمیونٹیز میں اعتماد کا مرکز ہونے کے باعث معاشرتی تنازعات کے حل اور فریقین کو باہمی رضامندی سے مسائل حل کرنے پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، عدالت سے رجوع کرنے سے قبل خاندانی اور معاشرتی تنازعات کے حل کے لیے صلح و مصالحت کی کوششیں نہایت اہم ہیں۔جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزارت قانون و …

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):علمائے کرام اپنی کمیونٹیز میں اعتماد کا مرکز ہونے کے باعث معاشرتی تنازعات کے حل اور فریقین کو باہمی رضامندی سے مسائل حل کرنے پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، عدالت سے رجوع کرنے سے قبل خاندانی اور معاشرتی تنازعات کے حل کے لیے صلح و مصالحت کی کوششیں نہایت اہم ہیں۔جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزارت قانون و انصاف کی سینئر کنسلٹنٹ (ریسرچ اینڈ اوپینین) اور انٹرنیشنل میڈی ایشن اینڈ آربیٹریشن سینٹر (آئی میک) کی پراجیکٹ ڈائریکٹر عائشہ رسول نے جمعرات کو کامسٹیک اسلام آباد میں 40 گھنٹے پر مشتمل سرٹیفائیڈ سول، کمرشل اور شریعہ سے مربوط ثالثی تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

آئی میک، وزارت قانون و انصاف نے تنظیم اسلامی تعاون آربیٹریشن سینٹر (او آئی سی-اے سی)، ترکیہ کے تعاون سے پانچ روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز کیا جو 20 سے 24 اگست تک جاری رہے گا۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جس کا مقصد علمائے کرام اور دینی سکالرز کو صلح و مصالحت اور شریعت کے اصولوں کی روشنی میں پیشہ ورانہ ثالثی کی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ عائشہ رسول نے کہا کہ عدالتوں سے رجوع سے قبل خاندانی و معاشرتی تنازعات کے حل کے لیے علماء، بزرگوں اور کمیونٹی رہنماؤں سے مشاورت کی روایت پہلے سے موجود ہے، اس لیے متبادل طریقہ ہائے تنازعات (اے ڈی آر) کو محض عدالتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں علما اور کمیونٹی رہنمائوں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاندانی تنازعات کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر عدالت جانے سے قبل صلح و مصالحت کی کوششیں انتہائی اہم ہیں۔ جنوری 2026ء سے اب تک طلاق اور خاندانی تنازعات سے متعلق 45 ہزار سے زائد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ روزانہ اوسطاً 300 ایسے مقدمات رجسٹر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگرام میں شرکا کو ثالثی کے بنیادی اصولوں، مذاکراتی مہارتوں، تنازعات کے تجزیے، دستاویز سازی اور شریعہ سے ہم آہنگ مصالحتی طریقہ کار سے متعلق جامع تربیت دی جا رہی ہے۔ نصاب بین الاقوامی معیارات کے مطابق مرتب کیا گیا ہے جس میں عملی مشقیں، کیس سٹڈیز اور گروپ مباحثے شامل ہیں۔عائشہ رسول نے واضح کیا کہ تربیت کا مقصد شرکا کو ثالثی کے قانونی اور عملی پہلوئوں سے آگاہ کرنا ہے اور تربیت مکمل کرنے کے بعد شرکا مصدقہ ثالث کے طور پر خدمات انجام دے سکیں گے۔

آئی میک بنیادی، ایڈوانس اور خصوصی نوعیت کے ثالثی تربیتی پروگرام بھی منعقد کر رہا ہے۔انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ تربیت کو محض سرٹیفکیٹ کے حصول تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ حاصل کردہ علم کو اپنی اپنی برادریوں میں عملی طور پر استعمال کیا جائے تاکہ تنازعات کے پرامن حل اور معاشرے میں امن کے قیام کے لیے علما موثر کردار ادا کر سکیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی سیکرٹری وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے پرامن تنازعات کے حل کے فروغ میں ثالثی کی تربیت کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔او آئی سی آربیٹریشن سینٹر، ترکیہ کے نمائندے سید معاذ شاہ نے مسلم ممالک میں متبادل طریقہ ہائے تنازعات کے فروغ کے لیے او آئی سی-اے سی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے آئی میک کے ساتھ علمی تبادلے اور صلاحیت سازی کے مشترکہ اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تربیتی پروگرام میں پاکستان بھر سے علمائے کرام اور دینی شخصیات شرکت کر رہی ہیں جن کا تعلق مدارس، جامعات، وفاقی شرعی عدالت، وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، ورلڈ مسلم کانگریس اور دیگر دینی و سماجی اداروں سے ہے۔آئی میک کے مطابق مرکز اپنے قیام سے اب تک ثالثی، آربیٹریشن اور اے ڈی آر سے متعلق صلاحیت سازی کے پروگراموں کے ذریعے ملک بھر میں 2 ہزار سے زائد افراد کو تربیت فراہم کر چکا ہے۔ مرکز کا مقصد پاکستان بھر میں مصالحت کے پائیدار کلچر کو فروغ دینا اور پرامن، پیشہ ورانہ اور ثقافتی طور پر موزوں طریقہ ہائے تنازعات تک رسائی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

 

مزید خبریں