وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان سے شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ جمعرات کو ملاقات کی جس دوران باہمی دلچسپی کے امور بارے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ترجمان وزارت تجارت کے مطابق جام کمال خان نے شامی وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان شام کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات …
وفاقی وزیر تجارت سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات،باہمی دلچسپی کے امور بارے تبادلہ خیال کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان سے شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ جمعرات کو ملاقات کی جس دوران باہمی دلچسپی کے امور بارے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ترجمان وزارت تجارت کے مطابق جام کمال خان نے شامی وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان شام کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
دونوں وزراء نے پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔وزیر تجارت نے شامی عوام سے اظہارِ یکجہتی، شام کے امن، استحکام اور تعمیر نو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔جام کمال خان نے شامی وزیر خارجہ کو پاکستان کی اقتصادی اور برآمدی استعداد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل، ادویات، چمڑے، کھیلوں کے سامان، آئی ٹی اور زرعی مصنوعات میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان روابط اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
شامی وزیر خارجہ نے شام کی تعمیر نو اور ترقیاتی ترجیحات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں رہائش، رئیل سٹیٹ، توانائی، ٹرانسپورٹ، بندرگاہوں، زراعت اور صنعت میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے پاکستان ،شام مشترکہ کاروباری کونسل کے قیام اور دمشق میں پاکستان،شام مشترکہ سرمایہ کاری فورم منعقد کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ شام کی وزارت معیشت کا وفد دوطرفہ تعاون کے مواقع کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گا۔
ملاقات میں ترجیحی شعبوں کی نشاندہی اور عملی اقتصادی روڈمیپ،پاکستانی اور شامی کاروباری اداروں کے درمیان ورچوئل ملاقاتیں ،پاکستان شام مشترکہ وزارتی کمیشن اور متعلقہ ورکنگ گروپس بحال کرنے،دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس کے درمیان روابط اور کاروباری وفود کے تبادلوں کو فعال کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں جن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔







