قومی اسمبلی نے پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی جو 13 نومبر 2025 سے موثر بالعمل سمجھا جائے گا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایوان میں یہ بل پیش کیا۔ اس موقع پر بل کی ایوان سے سپیکر نے شق وار منظوری لی جس کے بعد خواجہ محمد آصف نے بل منظوری کیلئے پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کر …
قومی اسمبلی نے پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):قومی اسمبلی نے پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی جو 13 نومبر 2025 سے موثر بالعمل سمجھا جائے گا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایوان میں یہ بل پیش کیا۔ اس موقع پر بل کی ایوان سے سپیکر نے شق وار منظوری لی جس کے بعد خواجہ محمد آصف نے بل منظوری کیلئے پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
اس بل کے مطابق یہ ایکٹ دیگر قوانین پر غالب ہو گا، اس ایکٹ کے احکامات، وضع کردہ قواعد و ضوابط اور اس کے تحت جاری کردہ ہدایات اور احکامات ، اعلامیے اور دیگر کسی بھی قانون ،قواعد و ضوابط، ہدایات، اعلامیوں یا احکامات کے برعکس ہونے کے باوجود نافذ العمل رہیں گے اور مذکورہ قوانین ، قواعد، ضابطہ، ہدایات، اعلامیے اور احکامات اس حد تک غیر موثر ہو جائیں گے جہاں تک وہ اس کے منافی ہوں۔ مذکورہ بالا کی عمومیت کو مضرت پہنچائے بغیر افواج پاکستان ایکٹ 1952 ، پاکستان فضائیہ ایکٹ 1953 ، بحری افواج پاکستان آرڈیننس 1976 ، کنٹونمنٹس ایکٹ 1924 یا دیگر کوئی قانون جو مسلح افواج کے اراکین سے متعلق ہو ، ایسے طریقہ کار میں تعبیر نہیں کیا جائے گاجو اس ایکٹ کے احکامات کے منافی ہو۔ اس بل کے تحت دفاعی افواج کا ایک ہیڈکوارٹر قائم کیا جائے گا جو مسلح افواج کا ہیڈ کوارٹر ہو گا، دفاعی افواج کا ہیڈ کوارٹر ، چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان اور اختیار کے تحت کارہائے منصبی انجام دے گا جو قومی سلامتی، دفاع اور مسلح افواج سے متعلق تمام امور کے بارے میں وزیراعظم کا اعلیٰ فوجی مشیر ہو گا۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی عملی کمانڈ اور کنٹرول کا اختیار حاصل ہو گا اور وہ مذکورہ کمانڈ اور کنٹرول کے ضمن میں متعلقہ جملہ امور کیلئے وفاقی حکومت کو جوابدہ ہو گا۔ اس بل کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز ایسے اختیارات استعمال کرے گا اور ایسے کارہائے منصبی انجام دے گا جو کثیر الجہتی انضمام ، عملی آہنگی، رابطہ کاری اور ان تمام امور جو مشترکہ ہیں، کی نگرانی کیلئے ضروری ہوں جس میں مسلح افواج ا ور پاکستان کی قومی سلامتی تینوں افواج کیلئے اور تزویراتی مضمرات ہوں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز مسلح افواج سے متعلق قوانین کے مطابق کسی شخص جو آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت تقرر کردہ اشخاص کے علاوہ ہو، کو ملازمت سےریٹائر، فارغ یا سبکدوش کر سکے گا یا اس کے استعفیٰ کو منظور یا مسترد کر سکے گا یا اس کو ملازمت میں برقرار رکھ سکے گا یا کسی شخص کی ریٹائرمنٹ کی عمر یا ملازمت کی مدت کی حد میں کمی کر سکے گا۔
مذکورہ بالا اختیارات کی عمومیت سے متناقص ہوئے بغیر چیف آف ڈیفنس فورسز ایسے دیگر اختیارات استعمال کر سکے گا اور ایسے دیگر فرائض منصبی انجام دے سکے گا جیسا کہ وفاقی حکومت سراہت کرے۔ قانون کے مطابق وفاقی حکومت وقتاً فوقتاً اس ایکٹ کے احکامات کو موثر بنانے کی غرض کیلئے قواعد و ضوابط وضع کر سکے گی۔ چیف آف ڈیفنس فورسز وقتاً فوقتاً اس ایکٹ کے احکامات اور اس کے تحت وضع کردہ قواعد و ضوابط کو موثر بنانے کیلئے ہدایات اور احکامات صادر کر سکے گا۔
ایکٹ کے مطابق اگر اس ایکٹ کو موثر بنانے میں کوئی مشکل درپیش ہو یا فی الوقت نافذ العمل کسی بھی دوسرے قانون اور اس ایکٹ کے درمیان کوئی عدم مطابقت ختم کرنی ضروری ہو تو صدر مملکت حکم کے ذریعے ایسی مشکل کا ازالہ کر سکے گا۔ اس ایکٹ کے نفاذ سے قبل وضع کئے گئے یا جاری کئے گئے کوئی بھی قواعد ، ضوابط ، ہدایات، اعلامیے، احکامات جہاں تک وہ اس ایکٹ کے احکامات سے متناقص نہ ہوں وہ بدستور نافذ العمل رہیں گے۔ وہ قانونی طور پر وضع ، جاری یا لئے گئے متصور ہوں گے اور 13 نومبر 2025 سے موثر ہوں گے۔








