وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 ، نیشنل کمانڈ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کا دفتر قائم ہو گیا ہے اور اس کے اختیارات کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے، ان میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے، قانون سازی کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہو گا اور اس میں اگر …
پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 ، نیشنل کمانڈ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کا دفتر قائم ہو گیا ہے ، اعظم نذیر تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 ، نیشنل کمانڈ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کا دفتر قائم ہو گیا ہے اور اس کے اختیارات کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے، ان میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے، قانون سازی کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہو گا اور اس میں اگر کوئی ابہام آئے تو صدر مملکت صدارتی حکم سے اسے دور کریں گے اور یہ سارے قوانین میں ہوتا ہے۔
جمعرات کو قومی اسمبلی میں بعض اراکین کی جانب سے منظور کئے گئے ان دو بلز کی تفصیلات پوچھے جانے پر انہوں نے بتایا کہ یہ ایک خالصتاً تکنیکی قانون ہے، کمانڈ اتھارٹی کے 2010 کے قانون میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا ذکر تھا، اس کی جگہ پر اب چیف آف ڈیفنس فورسز کی ترمیم کی گئی ہے جبکہ ایک جگہ کمانڈر آف سٹرٹیجک فورسز شامل کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ دوسرے قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کا دفتر قائم ہوا ہے، اس کے فنکشز اور اختیارات کی وضاحت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت کسی قیدی کو جیل سے باہر منتقل کرنے کیلئے ایک طریقہ کار موجود ہے، اس کا ایک میڈیکل بورڈ بنتا ہے اور وہ میڈیکل بورڈ دیکھتا ہے کہ جیل کے اندر علاج ہونا ہے یا جیل سے باہر منتقل کرنا ہے، اگر جیل سے باہر علاج کرانا مقصود ہو تو ہمیشہ سے سرکاری ہسپتال تجویز کئے جاتے ہیں، اس ہسپتال کا بورڈ یا لارجر بورڈ بیٹھے اور وہ یہ کہے کہ اس ہسپتال یا پاکستان کے دیگر ہسپتالوں میں یہ علاج نہیں ہو سکتا تو پھر باہر بھیجنے کی ایڈوائس کرتے ہیں،
ہم نے یہ وضاحت مانگی ہے کہ آیا کسی قیدی کو یہ سہولت دی جاسکتی ہے کہ وہ شفا انٹرنیشنل یا آغا خان ہسپتال میں علاج کی فرمائش کرے یا کسی اور ہسپتال کی خواہش ظاہر کرے تو اس کو اجازت دی جا سکتی ہے یا یہ سپیشل کیس کے طور پر ایک دفعہ کی اجازت ہے تاکہ آئین کے آرٹیکل 25 اور آرٹیکل 4 کی سپرٹ برقرار رہے اور اس میں کوئی ابہام والی بات بھی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل آفس نے ریویو واپس لے لیا ہے اور وہ اس پر شاید آج عملدرآمد کرکے کورٹ کو آگاہ کر دیں گے، اس میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔








