اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر(این ای او سی )نے کہا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان میں خسرے کے 1 لاکھ 31 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ،یہ نہایت متعدی اور جان لیوا بیماری ہے جو بچوں کے مدافعتی نظام کو کمزور کر کے انہیں دیگر بیماریوں کا شکار بنا دیتی ہے۔ این ای او سی سے جاری بیان کے مطابق رواں ماہ حکومتِ …
تین برسوں کے دوران ملک میں خسرے کے 1 لاکھ 31 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ، خسرہ متعدی اور کئی بیماریوں کا ماخذ ہے،نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر

مزید خبریں
اسلام آباد۔14نومبر (اے پی پی):نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر(این ای او سی )نے کہا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان میں خسرے کے 1 لاکھ 31 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ،یہ نہایت متعدی اور جان لیوا بیماری ہے جو بچوں کے مدافعتی نظام کو کمزور کر کے انہیں دیگر بیماریوں کا شکار بنا دیتی ہے۔
این ای او سی سے جاری بیان کے مطابق رواں ماہ حکومتِ ملک بھر کے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھا رہی ہے،17 تا 29 نومبر 2025 تک وزارتِ صحت، توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات اور پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کے اشتراک سے ملک گیر خسرہ-روبیلا مہم کا آغاز کرے گی، اسی مہم کے دوران اورل پولیو ویکسین ملک کے مخصوص اضلاع میں دی جائے گی۔
سینیٹر کا کہنا ہے کہ ویکسینیٹرز ملک بھر میں سکولوں، صحت مراکز اور کمیونٹی مراکز کے ذریعے بچوں تک پہنچیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہ جائے،خسرہ اور روبیلا کی ویکسین 6 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے 3 کروڑ 64 لاکھ سے زائد بچوں کو ان بیماریوں سے محفوظ رکھے گی جو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں میں سنگین بیماریوں اور اموات کا سبب بن سکتی ہیں۔
اسی طرح پولیو سے بچاؤ کے قطرے ملک کے 89 ہائی رسک اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے 2 کروڑ 29 لاکھ بچوں کو پلائے جائیں گے تاکہ انہیں پولیو وائرس سے ہونے والی زندگی بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔یہ مشترکہ قومی کوشش 3 کروڑ 64 لاکھ سے زائد بچوں کو بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، پنجاب، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں ویکسین کے ذریعے تحفظ فراہم کرے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مہم نہایت اہم وقت پر منعقد کی جا رہی ہے جب حالیہ سیلاب، ٹھہرے ہوئے پانی اور گنجان آبادیوں میں رہائش کے باعث خسرہ، روبیلا، پولیو اور دیگر قابلِ انسداد بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ہر بچے کو خسرہ، روبیلا اور پولیو کی ویکسین دی جائے تاکہ وباؤں کو پھیلاؤ سے روکا جا سکے۔








