تبلیسی۔2دسمبر (اے پی پی):جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے اور اسے نذر آتش کرنے کی کوشش کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 113 اہلکار زخمی ہو گئے۔ جارجیا کے دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرے ملک کی یورپی یونین میں شمولیت کے لئے مذاکرات کے التوا کے خلاف ہو رہے ہیں۔ جارجیا کے وزیر اعظم اراکلی کوباخدزے نے ملک کی …
جارجیا میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پارلیمنٹ کی عمارت کو نذرآتش کرنے کی کوشش ، 113 پولیس اہلکار زخمی

مزید خبریں
تبلیسی۔2دسمبر (اے پی پی):جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے اور اسے نذر آتش کرنے کی کوشش کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 113 اہلکار زخمی ہو گئے۔ جارجیا کے دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرے ملک کی یورپی یونین میں شمولیت کے لئے مذاکرات کے التوا کے خلاف ہو رہے ہیں۔
جارجیا کے وزیر اعظم اراکلی کوباخدزے نے ملک کی یورپی یونین میں شمولیت کے لئے مذاکرات کو 2028 کے آخر تک ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یورپی یونین پر جارجیا کو بلیک میل کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین ان مذاکرات کے آغاز کے لئے ان قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جو جارجیا کی پارلیمنٹ نے کچھ عرصہ قبل منظور کئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک یورپی یونین کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گا اور نہ ہی یورپی یونین کی طرف سے کوئی فنڈنگ قبول کرے گا۔
ان کے اس موقف کے بعد ان کی حکومت کے خلاف 28 نومبر کو ملک میں احتجاجی مظاہر ے شروع ہو گئے جن کے دوران مظاہروں کے شرکا نے دارالحکومت تبلیسی میں پارلیمنٹ کی عمارت پر حملے کی کوشش کی اور اس دوران پارلیمنٹ کی عمارت پر آتش گیر مواد پھینکا گیا جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کی عمارت کے کئی کمروں میں آگ لگ گئی جسے بجھا دیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا ۔ جارجیا کی وزارت داخلہ کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں مجموعی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 113 اہلکار زخمی ہوئے ۔








