اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سپیڈ کے ساتھ کام کرکے قومی معیشت کو درپیش چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے گی، جامع اور پائیدار اقتصادی نمو اور برآمدات میں اضافہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم اہداف ہوں گے، نئے مالی سال میں زری اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور خسارے کو 5 …
جامع اورپائیداراقتصادی نمواوربرآمدات میں اضافہ نئےمالی سال کےوفاقی بجٹ کےاہم اہداف ہوں گے،وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کاپری بجٹ کانفرنس سےخطاب
اسلام آباد۔7جون (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سپیڈ کے ساتھ کام کرکے قومی معیشت کو درپیش چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے گی، جامع اور پائیدار اقتصادی نمو اور برآمدات میں اضافہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم اہداف ہوں گے، نئے مالی سال میں زری اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور خسارے کو 5 فیصد کی سطح پر لانا ہمارا ہدف ہے، جی ڈی پی کی نمو 5 سے لے کر 6 فیصد تک مقرر کرنے کا امکان ہے، افراط زر پر قابو پانے کیلئے اقدامات ہوں گے، نئے مالی سال میں حکومت ہدف پر مبنی سبسڈی دے گی، مجموعی طور پر ساڑھے 8 کروڑ پاکستانیوں کو 2 ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ دیا جائے گا، سابق حکومت نے مشکل فیصلے ہمارے لئے چھوڑے لیکن ہماری نیت صاف ہے، حالات مشکل ہیں لیکن ہم معیشت کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔
منگل کو یہاں وزارت خزانہ کے زیر اہتمام نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے حوالہ سے بزنس، آئی ٹی، زراعت اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور شراکت داروں سے مشاورت کیلئے منعقدہ پری بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیراعظم کی یہ خواہش تھی کہ بجٹ مرتب کرتے وقت تمام شراکت داروں سے مشاورت کی جائے اور ان کی آراء حاصل کی جائے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت معیشت کے حوالہ سے مشکلات موجود ہیں اور مل جل کر آگے بڑھنا ہے، تمام شعبوں کو ساتھ لے کر آگے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اپنے اختیارات سنبھالے تو پاکستان دنیا میں افراط زر کے حوالہ سے تیسرا بڑا ملک تھا، گذشتہ چار سال میں پاکستان کے 2 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے، 60 لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے، 1952ء کے بعد پہلی مرتبہ ہماری منفی گروتھ ہوئی جس سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا، پاکستان کے قرضوں میں اضافہ کی شرح زیادہ رہی، اس سال 5 ہزار 600 ارب روپے خسارے کا اندیشہ ہے، ہمارے گذشتہ پانچ سالہ دور میں اوسط خسارہ 1650 ارب روپے تھا جبکہ جاری مالی سال میں 5600 ارب روپے کا اوسط خسارہ متوقع ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 2017-18ء میں جی ڈی پی کے لحاظ سے خسارہ کی شرح 6.5 فیصد تھی، پی ٹی آئی کے پہلے سال میں مالی خسارہ 9.1 فیصد ہو گیا، اس سے اگلے سال یہ 7.1 اور پھر 8.1 فیصد آیا، یہ ستم ظریقی ہے کہ سابق حکومت نے دسمبر میں آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس میں پرائمری خسارہ 25 ارب روپے تک کا ہدف تھا لیکن اس سال متوقع پرائمری خسارہ 1332 ارب روپے ہو گا
، ان خساروں کی وجہ سے ہمارے قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا، مسلم لیگ (ن) کے دور میں قرضہ کی اوسط 2132 ارب روپے رہی جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ اوسط 5177 ارب روپے ریکارڈ کی گئی ہے، ہم نے اوسط 2132 ارب روپے کے قرضوں میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا، بجلی اور گیس کے پلانٹس لگائے گئے، گوادر کو ترقی دی گئی جبکہ موٹرویز بھی بنائی گئیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ لیاقت علی خان سے لے کر ناصر الملک تک کی حکومتوں نے 70 برسوں میں 25 ہزار ارب روپے کے قرضے حاصل کئے جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا، ملکی تاریخ میں مجموعی قرضوں میں سب سے زیادہ 80 فیصد تناسب کے ساتھ عمران خان کی حکومت نے قرضہ لیا ہے، نئے مالی سال میں ہم نے 3900 ارب روپے کا قرضہ واپس کرنا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ گیس اور بجلی کے شعبہ کا گردشی قرضہ موجودہ حکومت کو ورثہ میں ملنے والا دوسرا بڑا مسئلہ ہے، بجلی کے شعبہ میں گردشی قرضہ 2500 جبکہ گیس کے شعبہ میں 1500 ارب روپے ہے، جب تک ہم بجلی اور گیس کے شعبہ میں اصلاحات نہیں لاتے ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مجموعی طور پر نئے مالی سال میں 21 ارب ڈالر کا قرضہ ہم نے واپس کرنا ہے، حسابات جاریہ کا خسارہ 16 ارب ڈالر تک متوقع ہے، نئے مالی سال میں یہ خسارہ ہم کم کر سکتے ہیں لیکن اس سے معیشت رک جائے گی،
اسی طرح نئے مالی سال میں زرمبادلہ کے ذخائر کو 18 ارب ڈالر کی سطح پر لانا ہو گا، اس کیلئے ہمیں 40 ارب ڈالر کا انتظام کرنا ہے اور انشاء اﷲ اس میں ہم کامیاب ہوں گے، گذشتہ دو ماہ میں ہم نے سب سے پہلے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا اور آئی ایم ایف کے ساتھ جلد معاہدہ ہو جائے گا، حکومت نے سخت فیصلے کئے ہیں لیکن ایسا کرنا ناگزیر تھا، پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کی وجہ سے حکومت کو ماہانہ 120 ارب روپے کا نقصان ہو رہا تھا جبکہ پوری حکومت چلانے کا ماہانہ خرچہ 42 ارب روپے ہے،
سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ سبسڈی نہیں دی جائے گی اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بھی وصول کی جائے گی، اگر ہم شوکت ترین کے فارمولے پر چلتے تو پٹرول کی قیمت 300 روپے فی لٹر تک جانا تھی مگر ہم نے ایسا نہیں کیا، فروری میں جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کی حکومت ختم ہو رہی ہے تو انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں منجمد کر دیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ فروری میں سابق وزیراعظم نے روس کا دورہ کیا،
اس وقت کے کوئی بھی اخبارات مجھے اٹھا کر دکھائیں کہ اس دورے میں تیل کا کوئی ذکر ہو، حماد اظہر نے 30 مارچ کو روس کا خط لکھا کہ ہمیں تیل دیا جائے جس کا جواب ابھی تک نہیں آیا، ہم نے روس میں اپنے سفارتکاروں سے بھی کہا کہ وہ اس معاملہ کا جائزہ لیں، روسی حکام نے ہمیں بتایا کہ پاکستان کے ساتھ 2015ء میں گیس پائپ لائن پر معاہدہ ہوا تھا اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ روس سے گندم کی خریداری کیلئے ای سی سی سے منظوری ہمارے دور میں ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے 8 ماہ تک ڈیوٹی ڈرا بیک کی سمری کو روکے رکھا اور اس مد میں پیسے جاری نہیں کئے لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ حکومت جا رہی ہے تو 30 مارچ کو ای سی سی کا اجلاس بلا کر اس کی منظوری دی گئی، سابق حکومت نے یہ مشکل فیصلے ہمارے لئے چھوڑے تھے لیکن ہماری نیت صاف ہے، ہم نے اس ملک کو سنوارنا ہے، حالات مشکل ہیں لیکن ہم معیشت کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سعودی عرب، چین، یو اے ای اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ دوبارہ رابطے استوار کئے، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلال بھٹو زرداری نے چینی حکام سے رابطے کئے جس کے بعد چین نے مارچ میں پاکستان کیلئے ختم ہونے والے قرضے کو دوبارہ رول اوور کر دیا ہے، اس کے نتیجہ میں پاکستان کو سالانہ 23 ملین ڈالر کی بچت ہو گی، چین نے شرح سود میں بھی کمی کی ہے، سعودی عرب دسمبر میں پاکستان کیلئے اپنے قرضے کو ری رول کرے گا،
اس کے علاوہ سعودی عرب مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی میں اضافہ بھی کر سکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں مؤخر ادائیگی پر ایل این جی بھی مل سکتی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے مالی سال میں زری اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور خسارے کو 5 فیصد کی سطح پر لانا ہمارا ہدف ہے، جی ڈی پی کی نمو 5 سے لے کر 6 فیصد تک مقرر کرنے کا امکان ہے، اس کے علاوہ افراط زر پر قابو پانے کیلئے اقدامات ہوں گے،
نئے مالی سال میں حکومت ہدف پر مبنی سبسڈی دے گی، مجموعی طور پر ساڑھے 8 کروڑ پاکستانیوں کو 2 ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ دیا جائے گا۔ بجٹ اور معیشت کے حوالہ سے درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارا گروتھ کا ماڈل صحیح نہیں ہے، ماضی میں حکومتیں سیٹھوں کو مزید امیر کرتیں تاکہ کارخانے لگا کر لوگوں کا روزگار دیں لیکن اس کا ہماری درآمدات پر برا اثر پڑا، ہماری درآمدات بڑھتی گئیں، صارفین کیلئے مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ ہوتا گیا،
ہمیں درآمدات کے متبادل مقامی پیداوار پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی، برآمدات میں اضافہ اور درآمدات کے متبادل مقامی پیداوار کو یکساں رکھنا ہماری ترجیح ہو گی، پاکستان 3.5 ملین ٹن پام، سویابین اور دیگر خوردنی تیل درآمد کر رہا ہے، اس وقت خوردنی تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت 1800 ڈالر ہے، جاری مالی سال میں ہم 4 ارب ڈالر مالیت کا خوردنی تیل درآمد کر چکے ہیں،
اگلے سال ہمیں 7 ارب ڈالر خوردنی تیل کی ضرورت ہو گی جس کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے، اس صورتحال میں ہمیں خوردنی تیل کی مقامی پیداوار پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی، ہم زراعت کے شعبہ میں سرمایہ کاری کریں گے، کسانوں کو معاونت فراہم کی جائے گی، زرعی بیجوں پر کام کرنا ہو گا، برآمدات میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جائیں گے،
بلوچستان، چولستان اور ملک کے پہاڑی اور نیم پہاڑی علاقوں میں چھوٹے چھوٹے ڈیم، بند اور ڈرپ ایریگیشن کو فروغ دیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ جامع اور پائیدار اقتصادی نمو اور برآمدات میں اضافہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم اہداف ہوں گے،
ہم آئوٹ آف دی وے جا کر مسائل کے حل کیلئے کوششیں کریں گے، حکومت پاکستان سپیڈ کے ساتھ کام کرکے قومی معیشت کو درپیش چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ اسی سے ہمارے بیشتر خسارے کم یا ختم ہو جائیں گے۔









