جام کمال خان کی بی آر آئی سربراہی اجلاس کے موقع پر علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں
جام کمال خان کی بی آر آئی سربراہی اجلاس کے موقع پر علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں

مزید خبریں
ہانگ کانگ ۔12ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ ( بی آر آئی)سربراہی اجلاس کے موقع پر علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتوں کے دوران تجارت، رابطوں (کنیکٹیویٹی)، غذائی تحفظ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کی ۔


وزارت تجارت کی جانب سے ہفتہ کو یہاں موصولہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر تجارت نے سری لنکا، بنگلہ دیش اور قطر کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشنکے سیکرٹری جنرل کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقاتوں میں دو طرفہ تجارت کو وسعت دینے، علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے اور ابھرتے ہوئے معاشی و تکنیکی شعبوں میں مزید تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

سری لنکا کے وزیر تجارت، صنعت، غذائی تحفظ اور ترقی، وسنتھا سمارا سنگھے کے ساتھ ملاقات کے دوران فریقین نے دو طرفہ تجارت اور معاشی تعاون کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا، جس میں پاکستان کے پہلے آزاد تجارتی معاہدےکی توسیع اور اس کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے امور شامل تھے۔دونوں وزراء نے کاروباری اور عوامی سطح پر روابط بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا اور رابطوں اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں قریبی تعاون کے مواقع کا بھی جائزہ لیا۔
سری لنکن وزیر نے مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ جام کمال خان نے معاشی ترقی میں ڈیجیٹلائزیشن کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کی اور کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بھی بڑھانا چاہیے۔ فریقین نے غذائی تحفظ، خاص طور پر غریب اور ترقی پذیر ممالک پر اس کے اثرات، نیز مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وفاقی وزیر جام کمال خان نے بہتر مارکیٹ رسائی کے لیے پاکستانی کینو کی درجہ بندی میں تبدیلی کے معاملے پر سری لنکا کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔
سری لنکن وزیر نے سری لنکن انناس، ایوکاڈو اور کنگ کوکونٹ (ناریل کی ایک قسم) کے حوالے سے پاکستان کے تعاون کو سراہا۔ فریقین نے علاقائی رابطوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مزید تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔بنگلہ دیش کے وزیر تجارت، صنعت، ٹیکسٹائل اور جیوٹ، کھنڈ کر عبدالمقتدر کے ساتھ ایک الگ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں فریقین نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی تعاون اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔بنگلہ دیشی فریق نے علاقائی یکجہتی اور امن کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا اور علاقائی کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا۔ وزیر تجارت جام کمال خان نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو مبارکباد دی اور اصلاحات کے عزم، معاشی پیش رفت اور خطے میں بڑھتے ہوئے روابط کے لیے ان کی وابستگی کو سراہا۔بنگلہ دیش کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعاون، وسیع تر معاشی تبادلوں اور قریبی تعلقات کے لیے موجود وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔
جام کمال خان نے بنگلہ دیش کو پاکستان کی چاول کی برآمدات کو دوطرفہ تجارت کے فروغ کی ایک حوصلہ افزا مثال قرار دیا اور کہا کہ ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں میں بھی تجارت کو متنوع بنانے کی نمایاں گنجائش موجود ہے۔بنگلہ دیشی وزیر نے صنعتوں کی ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان صنعتی تعاون کو بڑھانے کے لیے مہارت اور تجربات کے تبادلے کے امکانات کا جائزہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی۔فریقین نے موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، سائبر خطرات اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سمیت جدید چیلنجوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں وزرا نے اتفاق کیا کہ ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ اور خطے میں مضبوط روابط (کنیکٹیویٹی) خطے کے معاشی مستقبل کو تشکیل دینے اور تجارت و ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔وفاقی وزیر جام کمال خان نے قطر کے وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ تجارت احمد بن محمد السید سے بھی ملاقات کی، جس کے دوران فریقین نے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت اور ان کے وسیع تر علاقائی اور معاشی اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔
جام کمال خان نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے قطر کے عزم اور وابستگی کو سراہا۔قطری وزیر نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے نمایاں کردار کا اعتراف کیا اور اس کی کوششوں کے مثبت اثرات کو اجاگر کیا۔ ملاقات کے دوران تبادلہ خیال کے دوران علاقائی روابط اور ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو’ نمایاں رہے اور دونوں فریقوں نے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے راستے ٹرانزٹ اور تجارت کے نئے امکانات کا جائزہ لیا۔دونوں وزراء نے مشرقِ وسطیٰ سے ترکیہ اور وہاں سے آگے یورپ تک جانے والے وسیع علاقائی تجارتی راستوں کے ذریعے پاکستان اور قطر کو آپس میں جوڑنے کے امکانات پر بھی بات چیت کی۔ اس موقع پر دوطرفہ تجارت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور فریقین نے معاشی تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش اور تجارت کے موجودہ حجم کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وفاقی وزیرِ تجارت نے ‘انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن’ بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی کی سیکرٹری جنرل ٹریسا چن سے بھی ملاقات کی۔ٹریسا چن نے وفاقی وزیر کو 2025 میں قائم ہونے والی اس تنظیم کے بارے میں بریفنگ دی اور تنظیم کے ایک معاہدہ کنندہ اور بانی رکن کی حیثیت سے پاکستان کے کردار اور اس میں پاکستان کی اہم شراکت کو اجاگر کیا۔ملاقات میں حکومتوں اور نجی اداروں کے مابین تنازعات کے حل میں ثالثی کے بڑھتے ہوئے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثیتنازعات کے پرامن اور ادارہ جاتی حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ واضھ رہے کہ علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں کے اس سلسلے نے ‘بیلٹ اینڈ روڈ سمٹ’ کے موقع پر پاکستان کی فعال اقتصادی سفارت کاری، تجارت کو وسعت دینے، علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے، تکنیکی تعاون کو فروغ دینے اور پورے خطے میں مضبوط اقتصادی شراکت داریاں قائم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کو نمایاں کیا ہے۔







