جانوروں پر ظلم کے انسداد سے متعلق کمیٹی کا پہلا اجلاس ، جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق چیلنجز پر تبادلہ خیال

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر جانوروں پر ظلم کے انسداد سے متعلق قائم کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی،جس میں جانوروں کی فلاح و بہبود اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق موجودہ چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد۔29اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر جانوروں پر ظلم کے انسداد سے متعلق قائم کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی،جس میں جانوروں کی فلاح و بہبود اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق موجودہ چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اس کمیٹی کا مقصد پاکستان میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے جامع فریم ورک تیار کرنا، جانوروں پر ظلم و ستم کے واقعات کا جائزہ لینا اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کرنا ہے۔ کمیٹی کو قانونی ڈھانچے کا جائزہ لے کر اسے مزید مؤثر بنانے، غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کی روک تھام کے لیے نگرانی اور نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانے، اور متعلقہ سہولیات میں اصلاحات کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ ان میں اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری، اختیارات کا باہمی تداخل، ناکافی ویٹرنری ڈھانچہ، جانوروں پر ظلم سے متعلق موجودہ قوانین میں کمزور سزائیں، موجودہ قوانین پر ناقص عملدرآمد، مرکزی نگرانی و رپورٹنگ نظام کا فقدان، مالی و انسانی وسائل کی کمی، اور عوامی آگاہی کی کمی شامل ہیں۔ کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ پاکستان غیر قانونی جنگلی حیات کی سمگلنگ کے حوالے سے ایک حساس ملک ہے، جہاں باز، میٹھے پانی کے کچھوے، شیر کی مختلف اقسام، مگرمچھ، پرندے اور بندر سمیت مختلف انواع کی غیر قانونی تجارت کی جاتی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں آوارہ کتوں کے انسانی بنیادوں پر انتظام کے لیے ٹی این وی آر (پکڑنا، نس بندی، ویکسی نیشن اور دوبارہ چھوڑنا) مہم شروع کی جا چکی ہے۔

مزید یہ کہ رضاکاروں پر مشتمل ایک نظام پہلے سے موجود ہے جو ان جانوروں کی خوراک اور دیکھ بھال میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ تاہم ان اقدامات کو مؤثر انداز میں وسعت دینے کے لیے مزید رضاکاروں اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں جانوروں کی لڑائی کے غیر قانونی اڈوں، سوشل میڈیا پر تشدد پر مبنی ویڈیوز بنا کر انہیں تشہیر اور مقبولیت کے لیے پھیلانے کے رجحان، اور ان سماجی روایات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جو جانوروں کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس سے قبل نہ صرف اسلام آباد بلکہ تمام صوبوں سے بنیادی اعدادوشمار جمع کیے جائیں تاکہ مسئلے کی شدت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نس بندی اور ویکسی نیشن پروگرامز کے لیے درکار سہولیات اور مالی وسائل کا تخمینہ لگایا جائے اور ان اقدامات کو قومی سطح پر وسعت دینے کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں۔ وفاقی وزیر نے اس امر پر زور دیا کہ جانوروں پر ظلم و ستم انسانیت کے اصولوں کے منافی ہے۔

انہوں نے موجودہ قانونی ڈھانچے کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ ان خلاوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں جانوروں پر ظلم اور جنگلی حیات سے متعلق جرائم کو مناسب طور پر قابلِ سزا نہیں بنایا گیا یا ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بدقسمتی سے آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسی نیشن کے بعد بھی کئی آبادیاں انہیں واپس اپنے علاقوں میں آنے نہیں دیتیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ جانوروں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنان اور ماہرین کو یکجا کیا جائے تاکہ ان کی آراء اور سفارشات کو پالیسی سازی میں شامل کیا جا سکے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے صوبائی حکومتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بامعنی پیش رفت صرف باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ اجلاس میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، وزارتِ داخلہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد، نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو)، اور سول سوسائٹی و جانوروں کے تحفظ کے شعبے سے وابستہ نمائندگان نے شرکت کی۔

مزید خبریں