ٹوکیو۔16فروری (اے پی پی):جاپان کی ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کے کاشیوازاکی-کاریوا جوہری پاور پلانٹ کے ایک ری ایکٹر سے 14 برس بعد آزمائشی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار اور ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔ جاپانی خبررساں ادارے کی رپوٹ کے مطابق کمپنی 2011 کے فوکوشیما حادثے کے بعد پہلی بار باقاعدہ جوہری بجلی کی فراہمی بحال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ٹیپکو نے اعلان کیا ہے کہ …
جاپان، ٹیپکو کے جوہری پاور پلانٹ سے 14 سال بعد پہلی بار بجلی کی ترسیل

مزید خبریں
ٹوکیو۔16فروری (اے پی پی):جاپان کی ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کے کاشیوازاکی-کاریوا جوہری پاور پلانٹ کے ایک ری ایکٹر سے 14 برس بعد آزمائشی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار اور ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔ جاپانی خبررساں ادارے کی رپوٹ کے مطابق کمپنی 2011 کے فوکوشیما حادثے کے بعد پہلی بار باقاعدہ جوہری بجلی کی فراہمی بحال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
ٹیپکو نے اعلان کیا ہے کہ نیگاتا پریفیکچر میں واقع سات ری ایکٹروں پر مشتمل اس پلانٹ کے یونٹ نمبر 6 سے 18 مارچ سے مکمل پیمانے پر بجلی کی ترسیل شروع کی جائے گی۔ یہ کمپلیکس ٹوکیو سے تقریباً 220 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے، یہ یونٹ ٹوکیو اور اس کے نواحی علاقوں کو بجلی فراہم کرے گا۔کمپنی کے مطابق اتوار کی شام 7 بج کر 10 منٹ پر ری ایکٹر سے پیدا ہونے والی حرارت سے بننے والی بھاپ کے ذریعے ٹربائن چلائی گئی اور کسی خرابی کی اطلاع نہیں ملی۔
بعد ازاں پیر کی صبح 2 بج کر 55 منٹ پر بجلی کی ترسیل شروع کر دی گئی۔ٹیپکو کا منصوبہ ہے کہ آزمائشی مرحلے کے دوران پاور جنریٹر کو قومی گرڈ سے کئی بار منقطع اور دوبارہ منسلک کیا جائے گا جبکہ پیداوار کو بتدریج 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد اور پھر مکمل استعداد تک لے جایا جائے گا۔یونٹ نمبر 6 سے آخری بار مارچ 2012 کے اواخر میں بجلی ترسیل کی گئی تھی جس کے بعد اسے معمول کے معائنے کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔پلانٹ کے ایک اور ری ایکٹر کو بھی دوبارہ فعال کیے جانے کی توقع ہے جس کے لیے جاپان کے جوہری نگران ادارے کی منظوری حاصل کی جا چکی ہے۔
فوکوشیما دائیچی حادثے کے بعد حفاظتی خدشات کے باعث ملک کے بیشتر جوہری ری ایکٹرز تاحال بند ہیں اور پلانٹس کے قریب رہنے والے شہریوں میں تحفظات برقرار ہیں۔یاد رہے کہ یونٹ نمبر 6 کو 21 جنوری کو دوبارہ فعال کیا گیا تھا تاہم کنٹرول راڈز نکالنے کے دوران الارم بجنے پر اسے عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا، بعد ازاں 9 فروری کو اسے دوبارہ آن لائن کیا گیا۔پیر کو بجلی کی ترسیل کا عمل بھی ابتدائی شیڈول سے مؤخر ہوا کیونکہ ری ایکٹر کے اندر نیوٹران کی پیمائش کرنے والا ایک آلہ درست طور پر کام نہیں کر رہا تھا۔








