اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین بارہام صالح نے کہا ہے کہ جبری بے دخلی کا سب سے پائیدار حل امن کا قیام ہے۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے ادارے جنگ اور تنازعات کے باعث نقل مکانی پر مجبور افراد کے تحفظ، پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک اور برادریوں کی معاونت اور دیرپا حل تلاش کرنے …
جبری بے دخلی کا پائیدار حل امن ہے،اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔26ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین بارہام صالح نے کہا ہے کہ جبری بے دخلی کا سب سے پائیدار حل امن کا قیام ہے۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے ادارے جنگ اور تنازعات کے باعث نقل مکانی پر مجبور افراد کے تحفظ، پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک اور برادریوں کی معاونت اور دیرپا حل تلاش کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ لوگوں کو امدادی اداروں کی ضرورت ہی نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ کے ایک اور سال میں لوگوں کو زندہ رکھنے کی صلاحیت بہتر ہوجائے یا ہنگامی صورتحال میں قائم کیا گیا مہاجر کیمپ 50 سال بعد بھی موجود ہو۔ بچوں کا اپنے والدین سے ورثے میں بے دخلی حاصل کرنا بھی کامیابی نہیں ہوسکتی۔بارہام صالح نے کہا کہ 75 سال قبل مہاجرین کے عالمی کنونشن نے جنگ کی صورت میں متاثرہ افراد کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا، جسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔
عالمی برادری کو جہاں ممکن ہو بے دخلی روکنے، جہاں ہوچکی ہے وہاں اس کا خاتمہ کرنے اور لوگوں کو محفوظ اور باوقار زندگی دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا بھر میں11کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد تنازعات، تشدد، ظلم و ستم اور دیگر خطرات کے باعث اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبری بے دخلی کے مقابلے میں حل تیزی سے کم پڑ رہے ہیں، تنازعات میں اضافہ ہورہا ہے اور کئی بحران طویل ہوتے جارہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تنازعات کے خاتمے اور امن عمل کو برقرار رکھنے، شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری، پناہ کے حق اور عدم واپسی کے اصول کے تحفظ، پائیدار حل میں ابتدائی مرحلے سے سرمایہ کاری اور مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک کی معاونت کے لیے کردار ادا کرے۔







