وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کھیل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے موثر قانون سازی اور ان قوانین پر عمل درآمد سے ہی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے
جبری مشقت کے خاتمے کے لیے موثر قانون سازی اور ان قوانین پر عمل درآمد سے ہی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے، کھیل داس کوہستانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کھیل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے موثر قانون سازی اور ان قوانین پر عمل درآمد سے ہی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں قومی کمیشن برائے چائلڈ رائٹس ، سی ڈبلیو ایس اے اور این ایل ڈی کے زیر اہتمام اینٹوں کے بھٹوں اور دیگر مقامات پر جبری مشقت کے حوالے سے ایک تجزیاتی رپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ کھیل داس کوہستانی نے جبری مشقت کے شکار مزدوروں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مضبوط، موثر قوانین کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ جب مناسب قوانین موجود ہوں اور صحیح طریقے سے نافذ ہوں تو نظام آسانی سے کام کر سکتا ہے تاہم، موثر قانون سازی اور نفاذ کے بغیر بامعنی پیش رفت حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کارکنوں کے خدشات اور تجربات کو سننے کی ضرورت پر زور دیا اور یقین دلایا کہ ان کی آوازوں اور خدشات پر پوری توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم گڈ گورننس پر یقین رکھتےہیں اور اس ضمن میں پوری تندہی سے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔








