چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے عدالتی و قانونی اداروں کے درمیان تعاون سے ججز اور وکلا ء کی پیشہ وارانہ تربیت، قانونی تعلیم اور استعداد کار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے
ججز اور وکلا ء کی پیشہ وارانہ تربیت و استعداد کار بڑھانے کیلئے پاکستان، برطانیہ کے عدالتی و قانونی اداروں میں تعاون ضروری ہے، چیف جسٹس پاکستان
اسلام آباد۔17اگست (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے عدالتی و قانونی اداروں کے درمیان تعاون سے ججز اور وکلا ء کی پیشہ وارانہ تربیت، قانونی تعلیم اور استعداد کار کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ برطانیہ کے عدالتی و قانونی اداروں کے ساتھ بات چیت عملی اور دیرپا ادارہ جاتی تعاون کا ذریعہ بنے گی۔چیف جسٹس پاکستان نے یہ بات پیر کو سپریم کورٹ میں انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے کنگز بینچ ڈویژن کے جج جسٹس مارٹن گریفتھس سے ملاقات کے دوران کہی۔ جسٹس مارٹن گریفتھس ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں اور برطانیہ کی آنریبل سوسائٹی آف دی اِنر ٹیمپل کی بین الاقوامی کمیٹی کے رکن جبکہ جوڈیشل کالج کی ویلز ٹریننگ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ملاقات میں سپریم کورٹ کے ججز جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پاکستان بار کونسل کے ڈائریکٹر لیگل ایجوکیشن بھی موجود تھے۔
ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان عدالتی تربیت، پیشہ وارانہ ترقی اور استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اور انگلینڈ اینڈ ویلز کے جوڈیشل کالج کے درمیان ججز کی تربیت اور عدالتی تعلیم کے لئے منظم تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا جبکہ تربیتی طریقہ کار، ادارہ جاتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کے تبادلے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ملاقات میں اِنر ٹیمپل اور پاکستان کی قانونی برادری کے درمیان وکلا کی تربیت، مسلسل قانونی تعلیم اور پیشہ وارانہ ترقی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان نے برطانیہ کے عدالتی اور قانونی اداروں کے ساتھ رابطے کے موقع کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے روابط عدالتی اور قانونی شعبوں میں پیشہ وارانہ استعداد مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔








