جدید پیداواری ٹیکنالوجی اپناکر پاکستان زرعی خود کفالت کے ساتھ مشرق وسطیٰ کو زرعی اجناس بھی برآمد کر سکتا ہے،ماہرین زراعت

فیصل آباد۔ 19 نومبر (اے پی پی):ماہرین زراعت نے کہا کہ زرخیز زمینوں اور موافق موسموں کے باعث جدید پیداواری ٹیکنالوجی اپناکر پاکستان زرعی خود کفالت کے ساتھ مشرق وسطیٰ کو زرعی اجناس بھی برآمد کر سکتا ہے جبکہ ملکی ضروریات کو پورا اوردرآمد پر خرچ ہونے والا کثیر زر مبادلہ بچانے کیلئے کسانوں کو سبزیوں اور دالوں کی پیداوار پر خصوصی توجہ بھی دینی ہو گی۔ نظامت زرعی اطلاعات …

فیصل آباد۔ 19 نومبر (اے پی پی):ماہرین زراعت نے کہا کہ زرخیز زمینوں اور موافق موسموں کے باعث جدید پیداواری ٹیکنالوجی اپناکر پاکستان زرعی خود کفالت کے ساتھ مشرق وسطیٰ کو زرعی اجناس بھی برآمد کر سکتا ہے جبکہ ملکی ضروریات کو پورا اوردرآمد پر خرچ ہونے والا کثیر زر مبادلہ بچانے کیلئے کسانوں کو سبزیوں اور دالوں کی پیداوار پر خصوصی توجہ بھی دینی ہو گی۔

نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت کے ماہرین نے کہاکہ زراعت کے شعبہ میں ہونے والی تحقیق کے فوائد عام کسانوں تک پہنچانے ہوں گے تا کہ وہ ملک کی غذائی ضروریات کو با آسانی پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی 60سے 70 فیصد آبادی بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت سے منسلک ہے لہٰذا ملکی ترقی اور خوشحالی زرعی شعبے کی ترقی سے وابستہ ہے۔

انہو ں نے کہا کہ پاکستان کی ذرخیز زمین اور موافق موسموں کی بنا پر ہم زرعی خود کفالت کے ساتھ مشرق وسطیٰ کو زرعی اجناس بھی برآمد کر سکتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی زرعی پالیسی کا اصل مقصد عام کسان کی خوشحالی اور ملکی زرعی ضروریات کو با آسانی پوا کرنا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ کسانوں کو سبزیوں اور دالوں کی پیداوار پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے اوردرآمد پر خرچ ہونے والے کثیر زر مبادلہ کو بچایا جا سکے جبکہ اس سے بلاشبہ ان کی قیمتوں میں توازن اور استحکام بھی ا ٓئیگا۔