جعلی ادویات کیس، سپریم کورٹ نے ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے سے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا

سپریم کورٹ نے جعلی ادویات بنانے اور بیرون ملک بھجوانے کے الزام میں نامزد ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتوں میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے سے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کے وکیل کو ملزمان کے خلاف مزید شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس عقیل احمد …

اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے جعلی ادویات بنانے اور بیرون ملک بھجوانے کے الزام میں نامزد ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتوں میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے سے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کے وکیل کو ملزمان کے خلاف مزید شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل بینچ نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ڈریپ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان جعلی ادویات تیار کرکے بیرون ملک بھجوا رہے تھے جبکہ اقوام متحدہ نے بھی ان ادویات کے حوالے سے رپورٹ جاری کی تھی۔اس موقع پر جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیئے کہ جعلی ادویات کی وجہ سے ہر روز لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کسی کو یہ لائسنس نہیں دیا جا سکتا کہ وہ جعلی ادویات بنا کر لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالے۔ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکلوں کا متعلقہ کمپنی سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی کمپنی کی ملکیت یا کرایہ داری ان کے نام پر ہے۔اس پر جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے کہ گلی کوچوں میں فارماسیوٹیکل کمپنی نہیں چل سکتی، ادویات کی تیاری کوئی چارپائی بنانا نہیں کہ بغیر اجازت شروع کر دی جائے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ڈریپ کے وکیل سے استفسار کیا کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں جبکہ جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزمان بے قصور ہیں تو بتائیں کہ ڈریپ نے ان کے خلاف مقدمہ کیوں بنایا۔ضیا خالد سمیت تین ملزمان نے سپریم کورٹ میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانت میں آئندہ سماعت تک توسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے سے مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔