وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور عالمی معاشی دباؤ کے باوجود پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، اصلاحات کے حوالہ سے اقدامات، بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور عالمی اعتماد سے اس امرکی نشاندہی ہورہی ہے کہ پاکستان مستحکم اور ترقی پذیر معیشت کی جانب گامزن ہے
جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور عالمی معاشی دباؤ کے باوجودپاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، خرم شہزاد
اسلام آباد۔21اپریل (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور عالمی معاشی دباؤ کے باوجود پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، اصلاحات کے حوالہ سے اقدامات، بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور عالمی اعتماد سے اس امرکی نشاندہی ہورہی ہے کہ پاکستان مستحکم اور ترقی پذیر معیشت کی جانب گامزن ہے۔منگل کوسماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پراپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت اور سفارتی سرگرمیوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہےجس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ملک بتدریج استحکام اور ترقی کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، مختلف معاشی اشاریوں، سرمایہ کاری کے رجحانات اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اعتمادسے امرکی نشاندہی ہورہی ہے کہ اصلاحات اور پالیسی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں علاقائی اور عالمی سفارتی میدان میں فعال کردار ادا کیا ہے، امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں میزبان اور ثالث کے طور پر پاکستان کی شمولیت نے ملک کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر متعارف کرایا ہے، یہ سفارتی سرگرمیاں نہ صرف علاقائی امن کے لئے اہم ہیں بلکہ معاشی اعتماد بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ معاشی محاذ پر ایک اہم پیشرفت حسابات جاریہ کے کھاتوں کا مثبت ہونا ہے۔ مارچ 2026 میں تقریباً 1.07 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا جبکہ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں مجموعی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نکل کر سرپلس میں آ گیا ہے، یہ تبدیلی بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں استحکام کی علامت ہے اوراس سے زرمبادلہ کے ذخائرپراچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ خرم شہزادنے کہاکہ پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، مارچ میں سرمایہ کاری میں 163 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مالی سال کے پہلے 9ماہ میں مجموعی سرمایہ کاری 1.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور کاروباری ماحول کے بہتر ہونے کی عکاسی ہورہی ہے، ٹیکنالوجی کاشعبہ بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور مارچ 2026 میں آئی ٹی برآمدات ملکی تاریخ میں دوسری بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں،مالی سال 2026 کے اختتام تک آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی ای کامرس اور فِن ٹیک کمپنیوں کی دلچسپی پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ خرم شہزادنے کہاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہورہاہے،مالی سال کے پہلے نو ماہ میں ترسیلاتِ زر 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ سال کے اختتام تک یہ حجم 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، ترسیلاتِ زر معیشت کے لئے ایک مضبوط سہارا ثابت ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، فروری 2026 میں صنعتی پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر 6.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوارکی مجموعی شرح نمو 5.9 فیصد رہی، اس بہتری سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ مشیرخزانہ نے کہاکہ حکومت کی جانب سے نجکاری کے عمل کو بھی تیز کیا جا رہا ہے، قومی ایئر لائن کی نجکاری کے بعد توانائی کے شعبے کی کمپنیوں اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کے مراحل جاری ہیں،بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور شراکت دار ممالک کا پاکستان پر اعتماد برقرار ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے اضافی ذخائر فراہم کئے ہیں جبکہ 5ارب ڈالرکے قرضہ کو2028تک رول اوور کر دیا گیاہے ۔ اسی طرح عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے مستحکم آؤٹ لک برقرار رکھا ہے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لئے مثبت اشارہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اورنائب وزیراعظم نے حالیہ عرصے میں سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکی سمیت اہم ممالک کے دورے کئے ہیں جن کا مقصد تجارتی روابط کو مضبوط بنانا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے، اسی طرح وزیر خزانہ نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے موقع پرامریکا،سعودی عرب سمیت کئی ممالک اوربین الاقوامی مالیاتی اداروں کے عہدیداروں سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کیں، سٹریٹجک سفارتکاری معاشی ترقی کے لئے ایک اہم ستون بنتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ خطے میں جغرافیائی سیاسی چیلنجز اور عالمی معاشی دباؤ موجود ہیں تاہم پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔ اصلاحات کے حوالہ سیاقدامات، بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور عالمی اعتماد کے باعث یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستان ایک مستحکم اور ترقی پذیر معیشت کی جانب گامزن ہے۔









