اسلام آباد ۔4 اپریل(اے پی پی) جمعیت علماءاسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر، فلسطین اور دیگر ممالک میں مسلمانوں پر ظلم و جبر کے خلاف (کل) جمعہ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔ بدھ کو یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عوام کے اجتماع پربمباری کرکے لوگوں کوشہید کیا گیا، ہم اس کی بھرپور …
جمعیت علماءاسلام (ف) نے مقبوضہ کشمیر، فلسطین اور دیگر ممالک میں مسلمانوں پر ظلم و جبر کے خلاف جمعہ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان کر دیا،کل ہر طرف بھارت، امریکہ، اسرائیل مردہ باد ہو گا،مولانا فضل الرحمٰن کی صحافیوں سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔4 اپریل(اے پی پی) جمعیت علماءاسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر، فلسطین اور دیگر ممالک میں مسلمانوں پر ظلم و جبر کے خلاف (کل) جمعہ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔ بدھ کو یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں عوام کے اجتماع پربمباری کرکے لوگوں کوشہید کیا گیا، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، نائن الیون کے بعد ہمارے ہوائی اڈوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا، یہی نہیں نائن الیون کے بعد ملک کو بیچا گیا اور اس کے وقارکوبھی بیچ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کی پرواہ نہیں کرنی اپنا کام کرنا ہے، کشمیر سے ہمارا عزم برقرار رہے گا، ہم معاملات سمیٹنا چاہتے ہیں بکھیرنا نہیں، جمعہ کو ہر طرف بھارت، امریکہ، اسرائیل مردہ باد ہو گا،اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ عالم اسلام نے کرنا ہے، اگر اسرایئل ملک ہے تو اس کی تاریخ بتائی جائے جہاں یہ ملک ہے اس کا نام پہلے فلسطین کیوں تھا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کشمیر اگر ہماری ترجیح ہے تو ہمیں کشمیریوں کے ساتھ ہر وقت رہنا چاہئے، اس وقت عالم اسلام بالخصوس کشمیر میں مسلمانوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا گیا ہے، حال ہی میں 20 کشمیری نوجوان شہید کئے گئے ، سینکڑوں نوجوان پیلٹ گن کا نشانہ بنے ہیں، فلسطین میں عوام کے اجتماع پر بمباری کی گئی نہتے مسلمانوں پر گولہ باری کرکے بچوں اور عورتوں کو شہید کیا گیا، دو روز قبل افغانستان کے صوبہ قندوز میں کم عمر حفاظ قرآن کو شہید کیا گیا، سو سے زائد بچوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جے یوآئی کا اس صورتحال پر جمعہ کو یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے بھی جمعہ کو یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ ایسے واقعات میں صرف یکجہتی کا لفظ کافی نہیں عوام کو سڑکوں پر آکر ظلم و بربرہت کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔








