اسلام آباد ۔ 6 جولائی (اے پی پی) جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نوازشریف کیخلاف فیصلے کو ان کے مخالفین اپنے حق میں استعمال کریں گے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس کو پذیرائی دیتے ہیں، اس سے قبل نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد بھی انہیں خاصی پذیرائی ملی۔ جمعہ کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں …
جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی نجی ٹی وی سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 6 جولائی (اے پی پی) جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نوازشریف کیخلاف فیصلے کو ان کے مخالفین اپنے حق میں استعمال کریں گے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس کو پذیرائی دیتے ہیں، اس سے قبل نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد بھی انہیں خاصی پذیرائی ملی۔ جمعہ کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ فیصلے پر ردعمل احتیاط سے آنا چاہئے۔ ایک طرف عدالتوں میں فیصلے ہو رہے ہیں اور دوسری طرف عوام کی عدالت بھی لگی ہوئی ہے۔ دیکھنا ہو گا عوام کس کو پذیرائی بخشتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالات کے ساتھ تقاضے بھی بدل جاتے ہیں۔ محمد نوازشریف اور ان کی پارٹی کو جیسے حالات کا سامنا آج ہے ویسے حالات 1999ءمیں بھی تھے۔ ان کے قریبی ساتھی ہم سے پوچھتے تھے کہ شاید اب نوازشریف کا سیاست میں کوئی کردار نہیں لیکن وہ واپس بھی آئے اور اعلیٰ ترین عہدے پر فائز بھی ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ایسا ہوا اور یوسف رضا گیلانی کو بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے عام سیاسی روش اور اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کی تھی۔ سیاسی جماعتوں کو الیکشن کے بعد اتنی گنجائش ضرور رکھنی چاہئے کہ بات ہو سکے لیکن میری نظر میں پی ٹی آئی کے ساتھ کسی قسم کے اتحاد میں ناممکنات کا پہلو غالب ہے۔








