جموں و کشمیر سے لے کر شمال مشرقی ریاستوں تک بھارتی یومِ آزادی کے بائیکاٹ اور 15 اگست کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کی اطلاعات بھارت کے ’’ایک بھارت‘‘ کے دعوے پر بڑا سوالیہ نشان
جموں و کشمیر سے لے کر شمال مشرقی ریاستوں تک بھارتی یومِ آزادی کے بائیکاٹ اور 15 اگست کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کی اطلاعات بھارت کے ’’ایک بھارت‘‘ کے دعوے پر بڑا سوالیہ نشان
اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر سے لے کر شمال مشرقی ریاستوں تک، بھارتی یومِ آزادی کے بائیکاٹ اور 15 اگست کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کی اطلاعات بھارت کے ’’ایک بھارت‘‘ کے دعوے پر بڑا سوالیہ نشان ہیں اور بجا طور پر سوال یہ ہے کہ کیا بھارت واقعی ایک متحد قوم کے طور پر یہ دن منا رہا ہے؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشمیر، سکھ برادری اور شمال مشرقی ریاستوں میں مختلف حلقوں کی جانب سے احتجاج، بائیکاٹ اور ہڑتالیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بھارتی ریاست کا بیانیہ ہر قوم اور ہر خطے کو یکساں طور پر قبول نہیں۔ آسام، ناگالینڈ، منی پور اور اروناچل پردیش میں بائیکاٹ اور مزاحمتی سرگرمیوں کی اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ شمال مشرق میں بھارتی بالادستی کے خلاف احساسِ محرومی آج بھی موجود ہے
۔اطلاعات کے مطابق ناگا قوم پرست حلقے 14 اگست کو اپنی الگ قومی شناخت اور آزادی کی علامت کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ بھارت کے ’’ایک قوم، ایک شناخت‘‘ کے بیانیے کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ ناگا قیادت کا موقف رہا ہے کہ ناگا عوام کی اپنی الگ تاریخ، شناخت، قومی پرچم اور سیاسی تشخص ہے اور وہ بھارتی ریاست میں انضمام کو قبول نہیں کرتے۔ ناگا نوجوانوں اور قوم پرست تنظیموں کی جانب سے بھارتی یومِ آزادی کے بائیکاٹ کی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاستی تقریبات اور عوامی جذبات میں واضح خلیج موجود ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست منی پور میں مختلف تنظیموں کی جانب سے ہڑتال اور مکمل شٹ ڈائون کی کال بھی اسی وسیع بے چینی کا حصہ ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت واقعی ایک مضبوط اور متحد وفاق ہے تو اس کے مختلف حصوں میں 15 اگست کو سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کی نوبت کیوں آ رہی ہے؟
بھارت دنیا کے سامنے خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک متحد ملک کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن جموں و کشمیر اور شمال مشرق میں جاری مزاحمت اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق صرف سکیورٹی بڑھا دینا، سرکاری تقریبات کروا دینا یا بھارتی پرچم لہرا دینا سیاسی اتفاقِ رائے پیدا نہیں کر سکتا۔ قومی اتحاد عوام کی رضامندی اور اعتماد سے پیدا ہوتا ہے۔ بھارت کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا وہ واقعی مختلف قومیتوں، ثقافتوں اور شناختوں کو ساتھ لے کر چل رہا ہے یا ان سے زبردستی ایک یکساں قومی شناخت قبول کروانا چاہتا ہے؟
ناگا، منی پوری، آسامی اور دیگر شمال مشرقی شناختوں کے حوالے سے سامنے آنے والے احتجاجی بیانیے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کا ’’ایک بھارت‘‘ کا تصور ابھی تک سب کے لیے قابلِ قبول نہیں بن سکا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آج کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ نئی دہلی میں کتنی بڑی تقریب ہوئی؛ سوال یہ ہے کہ بھارت کے ان خطوں میں کیا ہو رہا ہے جہاں لوگ اسی دن کو بائیکاٹ یا یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس دن اسے قومی اتحاد کا جشن منانا چاہیے، اسی دن اس کے مختلف خطوں سے بائیکاٹ، احتجاج، ہڑتال اور خودمختاری کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔








