جنوبی ایشیامیں ملٹی پولرنظام سے بھارت کی بالادستی محدود ہو جائیگی،افتخار علی ملک

لاہور۔25جنوری (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں کثیر القطبی (ملٹی پولر) نظام کے ابھرنے سے نئی دہلی کی یہ صلاحیت بڑی حد تک محدود ہو جائے گی کہ وہ علاقائی فورمز کے ایجنڈے اور ضابطے یکطرفہ طور پر طے کر سکے۔ اتوار کو یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خطے اور دنیا …

لاہور۔25جنوری (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں کثیر القطبی (ملٹی پولر) نظام کے ابھرنے سے نئی دہلی کی یہ صلاحیت بڑی حد تک محدود ہو جائے گی کہ وہ علاقائی فورمز کے ایجنڈے اور ضابطے یکطرفہ طور پر طے کر سکے۔

اتوار کو یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خطے اور دنیا کا بدلتا ہوا سیاسی و جغرافیائی منظرنامہ اب واحد طاقت کی بالادستی سے نکل کر طاقت کی متوازن تقسیم کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا اس وقت گہرے جیو پولیٹیکل تغیرات سے گزر رہا ہے اور پاکستان اللہ کے فضل سے خطے میں اپنا سیاسی مقام دوبارہ حاصل کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ چین، بنگلہ دیش اور پاکستان اس نئے ابھرتے ہوئے بلاک میں اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر نمایاں کردار ادااور خطے کی سیاسی و معاشی سمت کے تعین میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کریں گے۔

افتخار علی ملک نے کہا کہ کثیر القطبی علاقائی نظام سے کثیرالجہتی تعاون مضبوط ہو گا کیونکہ اس کے تحت تمام فریقین، بشمول بھارت، کو تعمیری انداز میں بات چیت کرنا اور مختلف نقطہ نظر کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا ماحول سیاسی دبائو اور جبر کو کم کرے گا اور تجارت میں سہولت کاری، توانائی کے اشتراک، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور علاقائی رابطہ کاری جیسے اہم شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دے گا۔