اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جنوری 2026 کے دوران محصولات کی وصولی میں ماہانہ بنیاد پر 16 فیصد کا خاطرخواہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے جو گزشتہ 6 ماہ کی اوسط نمو 10 تا 11 فیصد سے زیادہ ہے۔ ہفتہ کو ایف بی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ پیشرفت مالی سال 2026 کے بقیہ مہینوں کے لیے ایک واضح اور حوصلہ افزا سمت …
جنوری 2026 میں ایف بی آر کی محصولات وصولی میں نمایاں اضافہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔31جنوری (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جنوری 2026 کے دوران محصولات کی وصولی میں ماہانہ بنیاد پر 16 فیصد کا خاطرخواہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے جو گزشتہ 6 ماہ کی اوسط نمو 10 تا 11 فیصد سے زیادہ ہے۔ ہفتہ کو ایف بی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ پیشرفت مالی سال 2026 کے بقیہ مہینوں کے لیے ایک واضح اور حوصلہ افزا سمت کی عکاسی کرتی ہے۔ ابتدائی طور پر جنوری 2026 میں محصولات کی وصولی 1,015 ارب روپے رہی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ وصولی 873 ارب روپے تھی۔
اس مہینے کی ٹیکس کارکردگی ایک متوازن اور اسٹریٹجک طور پر اہم مالیاتی نتیجے کی عکاسی کرتی ہے جس کی نمایاں خصوصیات میں براہِ راست ٹیکسوں میں خاطر خواہ اضافہ، بالواسطہ اور ایکسائز محصولات میں معتدل نمو اور مجموعی طور پر جنوری 2026 میں ایک خوش آئند اور بہتر کارکردگی شامل ہے۔ یہ پیش رفت ایف بی آر کے اصلاحات پر مبنی محصولات میں اضافے اورٹرانسفارمیشن پلان کی ساکھ کو مزید تقویت دیتی ہے۔ انکم ٹیکس کی وصولیوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے جو 381 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 483 ارب روپے تک پہنچ گئیں یوں اس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
محصولات میں یہ بہتری محض اتفاق نہیں بلکہ ایف بی آر کی اصلاحات، بالخصوص مؤثر انفورسمنٹ اقدامات اور زیرِ التواء مقدمات میں پھنسی ہوئی وصولیوں کو حاصل کرنے کے لیے مربوط کوششوں کی عکاس ہے۔جنوری میں سیلز ٹیکس کی وصولی 360 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال کے 322 ارب روپے کے مقابلے میں 12 فیصد اضا فہ ظاہر کرتی ہے۔ یہ رجحان بڑ ی صنعتوں (ایل ایس ایم ) میں بحالی اور بہتری کی عکاسی کرتا ہے، جو ایک نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔
جنوری کے نتائج ایف بی آر کے اصلاحات پر مبنی ٹرانسفارمیشن پلان کی توثیق کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے مؤثر استعمال اور انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے وصولیوں میں بہتری لا کر ایف بی آر ٹیکس کمپلائنس کو بہتر بنا رہا ہے ٹیکس نیٹ کو وسعت اور گہرائی دے رہا ہے اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو فروغ دے رہا ہے۔ براہِ راست ٹیکسوں میں یہ کارکردگی رضاکارانہ ٹیکس کمپلائنس کی جانب رویوں میں مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے ۔ آنے والے مہینوں میں اس رجحان سے مزید فوائد کی توقع کی جا سکتی ہے ۔
مالی سال 2026 کے پہلے سات مہینوں کے دوران ایف بی آر نے 7,176 ارب روپے محصولات اکٹھے کیے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ وصولی 6,490 ارب روپے تھی۔ ایف بی آر کو اُمید ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں بحالی اور نمو کا رجحان برقرار رہے گا جو موجودہ مالی سال کے محصولات کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔ ٹیم ایف بی آر بقیہ مہینوں میں بھی ایسی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔







