جنگلی حیات کا تحفظ ایک عملی ذمہ داری ہے، یہ حکام کی جانب سے مستقل کام، مقامی کمیونٹیز کے تعاون اور قانون کے احترام کا تقاضا کرتا ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری کا عالمی یوم جنگلی حیات کے موقع پر پیغام

اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ ایک عملی ذمہ داری ہے،اس دن کی مناسبت سےتمام شہریوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ ان قدرتی وسائل کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں جو ہمارے ملک کی بقاء کے لئے اہم ہیں،پاکستان ایک حیاتیاتی تنوع اور متنوع ماحولیاتی نظاموں کا حامل ملک ہے جو زراعت، آبی نظام اور روزگار …

اسلام آباد۔3مارچ (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ ایک عملی ذمہ داری ہے،اس دن کی مناسبت سےتمام شہریوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ ان قدرتی وسائل کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں جو ہمارے ملک کی بقاء کے لئے اہم ہیں،پاکستان ایک حیاتیاتی تنوع اور متنوع ماحولیاتی نظاموں کا حامل ملک ہے جو زراعت، آبی نظام اور روزگار کے ذرائع کی معاونت کرتے ہیں، ہمارے جنگلات اور آب گاہوں سے لے کر پہاڑوں اور ساحلی علاقوں تک یہ قدرتی وسائل ملک کے ماحولیاتی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں تاہم یہ وسائل دبائو کا شکار ہیں، مسکنوں کا خاتمہ، موسمیاتی دبائو، غیر قانونی شکار اور زمین و پانی کا نا مناسب استعمال جنگلی حیات کی بہت سی اقسام کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔

ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق عالمی یوم جنگلی حیات کے موقع پراپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ اور بقاء کے لیے کام کرنے والے تمام افراد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان ایک حیاتیاتی تنوع اور متنوع ماحولیاتی نظاموں کا حامل ملک ہے جو زراعت، آبی نظام اور روزگار کے ذرائع کی معاونت کرتے ہیں، ہمارے جنگلات اور آب گاہوں سے لے کر پہاڑوں اور ساحلی علاقوں تک یہ قدرتی وسائل ملک کے ماحولیاتی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں تاہم یہ وسائل دبائو کا شکار ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ مسکنوں کا خاتمہ، موسمیاتی دبائو، غیر قانونی شکار اور زمین و پانی کا نا مناسب استعمال جنگلی حیات کی بہت سی اقسام کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔یہ محض آنے والے خدشات نہیں ہیں، جب جنگلات سکڑتے ہیں تو آبادیوں کو زمین کے کٹائو اور سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ جب آب گاہیں اپنی قدرتی حالت کھو دیتی ہیں تو کسانوں اور مچھیروں کو آمدنی کے قابل بھروسہ ذرائع سے محروم ہونا پڑتا ہے، جب جنگلی حیات معدوم ہوتی ہے تو ماحولیاتی توازن کمزور پڑ جاتا ہے جو فصلوں، چراگاہوں اور صاف پانی کی فراہمی میں مددگار ہوتا ہے۔

ان کے اثرات دیہاتوں، منڈیوں اور ان گھرانوں میں محسوس کیے جاتے ہیں جو براہ راست زمین پر انحصار کرتے ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ حکومت پاکستان قدرتی مسکنوں کے تحفظ کو بہتر بنانے، غیر قانونی شکار کے خلاف قانون پر عملدرآمد کو مضبوط کرنے اور کمیونٹی کی سطح پر تحفظ کی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، سکولوں اور مقامی اداروں میں آگاہی بھی اتنی ہی اہم ہے، کیونکہ دیرپا تحفظ کا دارومدار باخبر اور ذمہ دار شہریوں پر ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ جنگلی حیات کا تحفظ ایک عملی ذمہ داری ہے، یہ حکام کی جانب سے مستقل کام، مقامی کمیونٹیز کے تعاون اور قانون کے احترام کا تقاضا کرتا ہے، اس دن کی مناسبت سےمیں تمام شہریوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ ان قدرتی وسائل کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں جو ہمارے ملک کی بقاء کے لئے اہم ہیں۔

مزید خبریں