اقوام متحدہ۔7مارچ (اے پی پی):ایران نے کہا ہے ک وہ جنگ نہیں چاہتا ہے ،تاہم اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا۔ رائٹرزکے مطابق اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیرسعید ایروانی نے کہا ہے کہ ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک کم از کم 1332 ایرانی شہری شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور …
جنگ نہیں چاہتے ،خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے ضروری قدم اٹھائیں گے ، ایران کا اقوام متحدہ میں خطاب

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔7مارچ (اے پی پی):ایران نے کہا ہے ک وہ جنگ نہیں چاہتا ہے ،تاہم اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا۔ رائٹرزکے مطابق اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیرسعید ایروانی نے کہا ہے کہ ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک کم از کم 1332 ایرانی شہری شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ایرانی سفیر نے ان حملوں کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد شہری آبادی میں خوف پھیلانا اور زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانا ہے۔
انہوں نے نے بتایا کہ ملک بھر میں 180 سے زائد بچے شہید ہوئے جبکہ 20 سے زیادہ سکولوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ان اعداد و شمار کا حوالہ انہوں نےایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی رپورٹ سے دیا۔ایرانی مندوب کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران بھر میں شہری آبادی اور بنیادی شہری ڈھانچے کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گنجان آباد رہائشی علاقوں اور اہم شہری تنصیبات پر بلا امتیاز حملے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک ملک میں 13 طبی مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے جبکہ جمعرات کوتہران سمیت مختلف شہروں میں کھیلوں اور تفریحی مقامات پر حملوں کے نتیجے میں 18 خواتین کھلاڑی شہید اور تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے امریکااور اسرائیل کے اس مؤقف کو مسترد کیا کہ حملوں کا ہدف صرف فوجی تنصیبات تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس کی جوابی کارروائیاں قانونی، ضروری اور متناسب ہیں جن کا ہدف صرف فوجی اہداف ہیں۔
ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اس جارحیت کو روکے جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔








