جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان 2027 کیلئے اپنی اقتصادی پیش تخمینوں میں بہتری لا سکتا ہے، سپلائی چینز کو معمول پر واپس آنے میں کچھ وقت درکار ہوگا، وفاقی وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا رائٹرز کو انٹرویو
جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان 2027 کیلئے اپنی اقتصادی پیش تخمینوں میں بہتری لا سکتا ہے، سپلائی چینز کو معمول پر واپس آنے میں کچھ وقت درکار ہوگا، وفاقی وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا رائٹرز کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان 2027 کیلئے اپنی اقتصادی تخمینوں میں بہتری لا سکتا ہے تاہم بجٹ پر نظرثانی کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ وزیرخزانہ نے یہ بات منگل کو برطانوی خبررساں ادارہ رائٹرز کو انٹرویو میں کہی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ جنگ کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث رسد کے نظام کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا، اس تنازع نے مہنگائی کی شرح کو دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں پہنچا دیا ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ ہم اس بات کا جائزہ لے رہے تھے کہ اگر یہ تنازع مزید طول پکڑتا تو اس کے بالواسطہ اور ثانوی اثرات سے کیسے نمٹا جائے، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، لہٰذا سپلائی چینز کو معمول پر واپس آنے میں کچھ وقت درکار ہو گا۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ انہیں آئندہ سال کیلئے اقتصادی تخمینوں میں بہتری کے امکانات نظر آتے ہیں لیکن بجٹ پر نظرثانی کرنا اس وقت یقیناً بہت قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان مالی سال 2027 کے دوران بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ کیے بغیر کریڈیٹر پروفائل میں تبدیلی لانے کیلئے تجارتی قرضوں سے استفادہ کر سکتا ہے، ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا کچھ دوطرفہ قرضوں کی جگہ تجارتی ذرائع سے حاصل شدہ فنانسنگ لی جا سکتی ہے، ہمارا بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے 3.4 ارب ڈالر کے دوطرفہ ڈیپازٹس واپس کئے تھے تاہم ساتھ ہی اماراتی کمرشل بینکوں سے بھی مالی معاونت حاصل کی گئی جو قرض دہندگان کے اس نئے ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے جسے حکومت مزید باضابطہ شکل دینا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی فوری ترجیح دفاعی اخراجات اور وسائل کی مناسب تقسیم ہے کیونکہ پاکستان کی دو سرحدیں اس وقت فعال نوعیت کے سلامتی کے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ کرپٹو کرنسی، ٹوکنائزیشن اور ڈیجیٹل اثاثوں کے تبادلہ جاتی پلیٹ فارمز کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت ان شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے پہلے ان کے لیے مناسب ضابطہ سازی اور ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرائے گی۔ جب یہ شعبہ باضابطہ اور منظم ہو جائے گا تو اس سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس عائد کیا جا سکے گا،کسی مرحلے پر ہمیں اسے ٹیکس نظام کے دائرہ کار میں لانا ہوگا، لیکن فی الحال ایسا کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے۔








