جوہری مذاکرات کی بحالی دوسرے فریق کے مؤقف پر منحصر ہے،ایران

تہران۔22اکتوبر (اے پی پی):ایران نے کہا ہے کہ جوہری مذاکرات کی بحالی دوسرے فریق کے مؤقف پر منحصر ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے گزشتہ روز بیان میں کہی۔ انہوں کہا کہ ایران کسی بھی مکالمے میں اسی وقت شریک ہوگا جب بات چیت برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہم تب ہی مذاکرات میں …

تہران۔22اکتوبر (اے پی پی):ایران نے کہا ہے کہ جوہری مذاکرات کی بحالی دوسرے فریق کے مؤقف پر منحصر ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے گزشتہ روز بیان میں کہی۔ انہوں کہا کہ ایران کسی بھی مکالمے میں اسی وقت شریک ہوگا جب بات چیت برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہو۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ہم تب ہی مذاکرات میں شامل ہوسکتے ہیں جب دوسرا فریق ہمارے لئے احترام کا مظاہرہ کرے اور بات چیت کو برابری کی بنیاد پر تسلیم کرے، نہ کہ بالا دستی قائم کرنے کی کوشش کرے۔

اس طرح کی روش دراصل شرائط مسلط کرنے کے مترادف ہوتی ہے۔ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ گفتگو صرف مساوی بنیادوں پر ہی ممکن ہے۔

ترجمان نے کہا کہ دنیا بخوبی جانتی ہے کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کا حامی رہا ہے، لیکن یہ فطری بات ہے کہ ہم اس وقت تک کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جب تک بات چیت کے اصولوں کا احترام یقینی نہ ہوجائے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کی منسوخ شدہ قراردادوں کو دوبارہ فعال کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

ان کے بقول قرارداد 2231 ختم ہوچکی ہے اور اس معاملے کو جاری رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں رہی۔ ایرانی ترجمان نے کہا کہ قرارداد 2231 عملاً اختتام پذیر ہوچکی ہے اور ایران، روس اور چین کے نزدیک اس کی بنیاد پر مزید کسی کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں۔

خود سلامتی کونسل نے بھی اب تک سابقہ پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری کی بھاری اکثریت یکطرفہ پالیسیوں کو مسترد کرتی ہے، اصولی طور پر دنیا کو چند ممالک کو جن میں سے بعض اس اہل بھی نہیں عالمی امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے والے معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ عمل عالمی اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔

مزید خبریں