جہالت کی زنجیریں ٹوٹنے لگیں، تعلیمی احیاء سے خیبرپختونخوا کے ہزاروں محروم بچوں کے لیے امید کی نئی کرن

حکومتی تعلیمی اصلاحات و منصوبوں کے نتیجے میں ہزاروں غریب بچوں کو بہتر مستقبل کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔

پشاور۔ 12 جون (اے پی پی):غربت، سماجی و معاشی مشکلات اور تعلیمی سہولیات کی کمی کے باعث برسوں تک خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں ہزاروں بچے تعلیم سے محروم رہے۔ تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور حکومتی تعلیمی اصلاحات و منصوبوں کے نتیجے میں ہزاروں غریب بچوں کو بہتر مستقبل کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔

اقتصادی سروے پاکستان 26۔2025 کے مطابق ملک بھر میں سکول سے باہر بچوکں کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے، جس میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان جیسے پسماندہ صوبوں میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔بلوچستان میں، جہاں تعلیمی محرومی کی شرح ماضی میں سب سے زیادہ رہی، سکول سے باہر بچوں کا تناسب 69 فیصد سے کم ہو کر 45 فیصد رہ گیا۔ سندھ میں یہ شرح 47 فیصد سے 39 فیصد، پنجاب میں 32 فیصد سے 21 فیصد جبکہ خیبرپختونخوا میں 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد تک آ گئی ہے۔ماہرین تعلیم کے مطابق یہ پیش رفت ہدفی تعلیمی اصلاحات، بڑھتی ہوئی مالی معاونت، وظائف، مفت درسی کتب و یونیفارم، سیکنڈ شفٹ سکولوں اور ڈیجیٹل تعلیمی منصوبوں کا نتیجہ ہے۔سابق ڈائریکٹر تعلیم خیبرپختونخوا پروفیسر ڈاکٹر محمد ابراہیم نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس بات کی مستحق ہیں کہ انہوں نے بڑی تعداد میں سکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کیا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں غربت، تعلیم کے بڑھتے اخراجات، سہولیات کی کمی، ناقص ٹرانسپورٹ، مہنگی کتابیں اور جسمانی سزا جیسے عوامل خصوصاً دیہی علاقوں میں بچوں کے سکول چھوڑنے کی اہم وجوہات تھے۔ تاہم حالیہ اصلاحات کے ذریعے ان مسائل کے حل کی جانب مؤثر پیش رفت کی جا رہی ہے۔وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم بھی اہم اقدامات میں شامل ہے، جس کے تحت اپریل 2026 تک ملک بھر کے 156 اعلیٰ تعلیمی اداروں کے 4 لاکھ 7 ہزار سے زائد طلبہ میں 74 ہزار سے زیادہ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ ان میں اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ادارے بھی شامل ہیں۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس پروگرام سے مستفید ہونے والے طلبہ میں 54 فیصد طالبات شامل ہیں، جو اعلیٰ تعلیم میں صنفی مساوات کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔تعلیم کے شعبے میں وفاقی حکومت کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے 147 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 34.9 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، جن کا مقصد ملک بھر میں تعلیمی رسائی اور معیار کو بہتر بنانا ہے۔اقتصادی سروے کے مطابق شرح خواندگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ پنجاب 68 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں یہ شرح 58 فیصد اور بلوچستان میں 49 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی سمبل ریاض نے بتایا کہ حکومتی وظائف، مفت کتابوں اور یونیفارم کی بدولت انہوں نے اپنی بیٹیوں کو بہتر مستقبل کے لیے سکول میں داخل کرایا۔ ان کی کہانی ان ہزاروں والدین کی ترجمانی کرتی ہے جو اب تعلیم کو ایک ناقابلِ حصول خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت سمجھتے ہیں۔خیبرپختونخوا کے حکام کے مطابق مفت یونیفارم، سٹیشنری، سکول بیگز، سیکنڈ شفٹ سکولوں کا قیام اور دیگر اقدامات نے داخلوں کی شرح بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ڈیجیٹل کلاس رومز، سائنس لیبارٹریز، تعلیمی ایف ایم ریڈیو چینلز، رعایتی ٹرانسپورٹ سہولیات اور ہزاروں کچی جماعتوں کو جدید ابتدائی بچپن تعلیم (ای سی ای ) مراکز میں تبدیل کرنے سے بالخصوص پسماندہ اور سابق فاٹا کے قبائلی اضلاع میں تعلیمی مواقع مضبوط ہوئے ہیں۔اسی طرح متبادل تعلیمی پروگرام (اے ایل پی) بھی بڑی عمر کے سکول سے باہر بچوں تک تعلیم پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بنے ہیں۔ سرکاری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے قائم 1,692 مراکز میں 58 ہزار سے زائد بچوں کا اندراج کیا جا چکا ہے۔صوبے میں ابتدائی بچپن کی تعلیم کے پروگرام بھی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ سینکڑوں کلاس رومز کو جدید تعلیمی مراکز میں تبدیل کیا جا چکا ہے جبکہ ہزاروں مزید مراکز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے معیاری تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔والدین و اساتذہ کونسلز (پی ٹی سیز) نے سکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ کمیونٹی سکولوں اور ووچر پر مبنی وظیفہ پروگراموں نے کم آمدنی والے خاندانوں کے ذہین بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد فراہم کی ہےاسٹارز آف کے پی اور ایٹا (ای ٹی ای اے) میرٹ اسکالرشپس جیسے پروگرام طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے اور تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔اگرچہ خیبرپختونخوا کو اب بھی ہزاروں نئے سکولوں، بہتر تعلیمی انفراسٹرکچر، بیت الخلاؤں، چاردیواریوں اور دیگر سہولیات کی ضرورت ہے، تاہم اقتصادی سروے میں سامنے آنے والی پیش رفت ایک حوصلہ افزا کامیابی کی داستان ہے۔جو بچے کبھی سڑکوں پر کام کرتے تھے، گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف رہتے تھے یا تعلیم تک رسائی سے محروم تھے، آج ان کے لیے سکولوں کے دروازے پہلے سے کہیں زیادہ کھل رہے ہیں۔ ان کی کامیابیاں صرف داخلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہیں بلکہ ایک ایسے پاکستان کی عکاسی کرتی ہیں جو جہالت کی زنجیریں توڑ کر آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔