فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل چیئرمین و نائب صدر ذکی اعجاز، یوبی جی کے سرپرست اعلی ایس ایم تنویر و دیگر رہنماوں نے ریجنل آفس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ جی ایس پی پلس محض ایک تجارتی رعایت نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے
جی ایس پی پلس ایک تجارتی رعایت نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے ، ذکی اعجاز، ایس ایم تنویر
لاہور۔27مارچ (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل چیئرمین و نائب صدر ذکی اعجاز، یوبی جی کے سرپرست اعلی ایس ایم تنویر و دیگر رہنماوں نے ریجنل آفس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ جی ایس پی پلس محض ایک تجارتی رعایت نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے، اس سٹیٹس کی بدولت پاکستان کی 66 فیصد سے زائد اشیا، جن میں ٹیکسٹائل، چمڑا اور سرجیکل سامان شامل ہیں، یورپی منڈیوں میں زیرو ڈیوٹی پر ایکسپورٹ ہوتی ہیں۔ یہ سہولت ہماری برآمدات کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، ہماری کل عالمی برآمدات کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ اسی خطے سے وابستہ ہے۔اگر یہ سٹیٹس ختم ہوا تو ہماری مصنوعات پر فوری طور پر 10 سے 12 فیصد ڈیوٹی عائد ہو جائے گی، جس سے ملک کو سالانہ 8سے 9 ارب ڈالر کا براہِ راست نقصان ہو سکتا ہے، جب ہماری مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی ہم مقابلہ کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ صرف بڑے صنعت کاروں کا نہیں بلکہ پاکستان کے عام آدمی کا ہے، پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور چمڑے کا شعبہ، لاکھوں محنت کشوں اور خواتین کو روزگار فراہم کرتا ہے، اس وقت تقریباً 30 لاکھ خاندان براہِ راست ان برآمدات سے جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جی ایس پی کے خاتمے کا مطلب ہے فیکٹریوں کی تالا بندی اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری، جو ایک نیا سماجی اور معاشی بحران پیدا کر دے گی، پاکستان کا سٹیٹس ختم ہونا بھارت کے لیے یورپی منڈیوں کے دروازے کھولنے کے مترادف ہے،ہمیں علاقائی حقائق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،اگر پاکستان نے اپنا GSP پلس سٹیٹس کھو دیا، تو بھارت ہماری جگہ لے لے گا اور یورپی اسٹورز سے پاکستانی مصنوعات ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی،ایک بار منڈی ہاتھ سے نکل گئی تو اسے واپس لانا ناممکن ہوگا۔









