جکارتہ۔14ستمبر (اے پی پی):خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک اور انڈونیشیا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا۔ایس پی اےکے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں اشیا، خدمات، سرمایہ کاری، کسٹمز کے طریقہ کار، تجارت میں تکنیکی رکاوٹیں، حفظان صحت، تجارتی سہولت، ڈیجیٹل تجارت اور اسی قسم کے متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مذاکرات کا مقصد ان اصولوں پر اتفاق کرنا تھا جن …
جی سی سی، انڈونیشیا آزاد تجارتی مذاکرات کا پہلا دور ختم

مزید خبریں
جکارتہ۔14ستمبر (اے پی پی):خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک اور انڈونیشیا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا۔ایس پی اےکے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں اشیا، خدمات، سرمایہ کاری، کسٹمز کے طریقہ کار، تجارت میں تکنیکی رکاوٹیں، حفظان صحت، تجارتی سہولت، ڈیجیٹل تجارت اور اسی قسم کے متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مذاکرات کا مقصد ان اصولوں پر اتفاق کرنا تھا جن پر بات چیت آگے بڑھے۔
اس کے علاوہ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے فریم ورک اور مطلوبہ اہداف کا تعین کرنا تاکہ 24 ماہ کے اندر معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں کے لیے فارن ٹریڈ اتھارٹی کے نائب گورنر، سعودی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ فرید العسلی نے مذاکرات کے پہلے دور کو مضبوط سٹراٹیجک شراکت داری قائم کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ دور میں مذاکرات میں قابل ذکر پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔ فریقین ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہے جو دونوں فریقوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع کی ضمانت دیتا ہے۔جنرل اتھارٹی آف فارن ٹریڈ کی سربراہی میں سعودی عرب کے وفد میں وزارت تجارت، وزارت توانائی، وزارت سرمایہ کاری، وزارت ماحولیات، پانی و زراعت، وزارت صنعت و معدنی وسائل، وزارت معیشت و منصوبہ بندی، سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی، زکوۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی، سعودی سٹینڈرڈز، میٹرولوجی اینڈ کوالٹی آرگنائزیشن، سعودی ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور سعودی سینٹرل بینک (ساما) شامل تھے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ فارن ٹریڈ اتھارٹی مملکت کے بین الاقوامی تجارتی فوائد کو بڑھانے، اس کی بین الاقوامی موجودگی کے حجم میں اضافہ کرنے اور مشترکہ اہداف کے حصول اور پائیدار ترقی کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے متعدد بین الاقوامی تنظیموں میں اس کی موثر شرکت کے لیے کام کررہی ہے۔








