جی پی آئی کے تحت کسانوں کی سہولت کاری زرعی خود کفالت اور ترقی کا نیا باب
جی پی آئی کے تحت کسانوں کی سہولت کاری زرعی خود کفالت اور ترقی کا نیا باب

مزید خبریں
اسلام آباد۔31مئی (اے پی پی):جی پی آئی کے تحت کسانوں کی سہولت کاری،زرعی خود کفالت اور ترقی کا نیا باب ہے، اس نے زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی سہولت کاری کو نئی جہت دی ہے۔جدید زرعی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور سمارٹ فارمنگ کے فروغ سے کسانوں کو سہولیات فراہم کی گئیں ۔لِمز پاکستان، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید زرعی رہنمائی کے نظام سے کاشتکاروں کی استعداد اور پیداوار میں بہتری آئی ہے۔جی پی آئی کی معاونت سے بنجر زمینوں کی بحالی، زرعی سرمایہ کاری اور برآمدی مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ۔
کسانوں نے جی پی آئی کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گرین ایگری مالز کے ذریعے دوائیں، کھاد اور مشینری گرین ایگری مالز کے ذریعے مناسب قیمتوں پر بروقت فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایک مقامی کسان کا کہنا ہے کہ جی پی آئی کے انقلابی اقدامات زرعی ترقی، کسانوں کی فلاح اور دیہی معیشت کے استحکام کو نئی تقویت دے رہے ہیں،پینٹیرا کمپنی کی آمد سے بنجر علاقے میں ہریالی، بہتر سہولیات اور روزگار کے نئے مواقع فراہم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دور افتادہ اور کٹھن راستوں تک رسائی کو ممکن بنایا گیا۔ مقامی کسان کے مطابق جی پی آئی کے اقدامات سے ہمارے کام میں بہت زیادہ بہتری آئے گی ، حکومتِ سے گزارش ہے کہ یہ پراجیکٹس آئندہ بھی جاری رکھے جائیں۔
ان کا کہنا تھاکہ پنجگور میں زمین بہت زرخیز ہے اور اس اقدام سے زمینداروں کو بہت فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقے کے غریب کاشتکاروں کے لیے سرکاری تعاون سے زمینیں اور شمسی وسائل فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ جی پی آئی نے جدید زراعت متعارف کروائی اور ایگری مالز کے قیام کے ذریعے بیج، کھاد اور زرعی ادویات ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔








