حجاج کی سہولت کیلئے پہلی بار گروپ امیر اور مشائر خدمتگار ٹیمیں متحرک ، رمی کیلئے سعودی اوقات کی پابندی مشترکہ ذمہ داری ہے، سردار محمد یوسف

مکہ مکرمہ۔24مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی منظوری سے تیار کردہ "مشائر مینجمنٹ اسٹریٹجی 2026" کے تحت پاکستان حج مشن (کل )پیر کی صبح تک 1 لاکھ 18 ہزار سے زائد عازمین کی منیٰ خیمہ بستی منتقلی کا عمل مکمل کر لے گا، جس کے بعد عازمین 9 ذوالحجہ کو وقوفِ عرفات کے لیے روانہ ہوں گے۔ امسال تاریخ میں پہلی بار حجاج کے نظم …

مکہ مکرمہ۔24مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی منظوری سے تیار کردہ "مشائر مینجمنٹ اسٹریٹجی 2026” کے تحت پاکستان حج مشن (کل )پیر کی صبح تک 1 لاکھ 18 ہزار سے زائد عازمین کی منیٰ خیمہ بستی منتقلی کا عمل مکمل کر لے گا، جس کے بعد عازمین 9 ذوالحجہ کو وقوفِ عرفات کے لیے روانہ ہوں گے۔ امسال تاریخ میں پہلی بار حجاج کے نظم و ضبط کے لیے 188 حج گروپس میں سے ہی تین مرد اور تین خواتین پر مشتمل گروپ امیر نامزد کیے گئے ہیں جبکہ بیمار و معذور عازمین کی وہیل چیئرز پر مدد کے لیے مشائر خدمتگار ٹیمیں فیلڈ میں متحرک ہیں۔

تمام آپریشنز حجاج کے "گرین کارڈ” ڈیٹا کی بنیاد پر مینج کیے جا رہے ہیں۔پاکستان حج مشن مکہ مکرمہ میں وفاقی وزیر کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کوآرڈینیٹر مکہ ذوالفقار خان نے بتایا کہ مکہ سے منیٰ کے لیے اسمارٹ ٹرانسپورٹ آپریشن کے تحت نقابہ، ابو سرحد اور مواکب الخیر کی کل 1,668 بسیں حجاج کو منتقل کر رہی ہیں۔ مذہبی تقاضوں کے پیشِ نظر فقہ جعفریہ کے 3,021 حجاج منیٰ کے بجائے براہِ راست عرفات منتقل ہو رہے ہیں جبکہ 85 نور بخشی حجاج کے لیے بھی الگ سفری انتظامات کیے گئے ہیں۔ حجاج کی 24 گھنٹے رہنمائی کے لیے "ون ٹیم۔ون مشن” فریم ورک کے تحت کل 1,769 فیلڈ اہلکار (معاونین، سکیورٹی اور میڈیکل مشن) الراجحی اور رواف منیٰ کیمپس میں تعینات ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے فیلڈ ٹیموں کو ہدایت کی کہ مناسک کے پہلے دن عازمین کی بغیر کسی مشکل کے محفوظ منتقلی یقینی بنائی جائے کیونکہ اس آپریشن کی کامیابی آگے کے مراحل میں آسانی پیدا کرے گی۔ انہوں نے سخت تاکید کی کہ شدید گرمی کے پیشِ نظر جمرات پر رمی کے لیے سعودی حکام کے مقرر کردہ اوقاتِ کار (صبح 10 سے دوپہر 4 بجے تک پابندی) اور تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے فعال کنٹرول روم سے سعودی سم کے ذریعے 1966 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں