حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کےلئے سعودی حکومت سے رابطہ میں ہیں، وفاقی وزیر مذہبی امور

اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی کے تناسب سے سالانہ حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لئے سعودی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں، قوی امید ہے کہ دیگر ممالک کے کوٹہ میں اضافے کے ساتھ پاکستان کے کوٹہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر دیا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر پرائیویٹ حج …

اسلام آباد۔14جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کی آبادی کے تناسب سے سالانہ حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لئے سعودی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں، قوی امید ہے کہ دیگر ممالک کے کوٹہ میں اضافے کے ساتھ پاکستان کے کوٹہ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر دیا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر پرائیویٹ حج سکیم میں حج پیکج کے لئے اصلاحات پر کام کر رہے ہیں

،روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ میں عازمین حج کی دہری امیگریشن کے لئے لاہور کو بھی شامل کرنے لئےکام تیزی سے جاری ہے ،حج 2025 کے بعد 75فیصد شکایات کم ہوئیں اس سال مزید کم کرنے کے لئے کوشاں ہیں ،حج 2026 کے لئے 38ہزار سے زائد عازمین حج اسلام آباد ایئرپورٹ سے روٹ ٹو مکہ کے ذریعے امیگریشن کرائیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو حج کمپلیکس اسلام آباد میں حج تربیتی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب اور میڈ یا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان، جوائنٹ سیکرٹری و چیف کوآرڈینیٹر ٹریننگ محمد ندیم خان ، ڈائریکٹر حج قاضی سمیع الرحمان اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات اور وفاقی کابینہ سے منظور شدہ حج پالیسی 2026 کی روشنی میں تمام انتظامات سعودی ٹائم لائن کے مطابق بروقت مکمل کیےجا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک کی نسبت پاکستان کا حج پیکیج اب بھی سستا اور معیاری ہے۔

وفاقی وزیر نے حج انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ روٹ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت اسلام آباد اور کراچی کے ساتھ ساتھ لاہور ایئرپورٹ کو بھی شامل کرنے کے لئے کام تیزی سے جاری ہےجس کے ذریعے عازمین حج کی د ہری امیگریشن پاکستان میں ہی مکمل ہو جائے گی اور حجاج سعودی ایئرپورٹ پر قطاروں میں لگنے کے بجائے براہ راست بسوں کے ذریعے اپنی رہائش پر پہنچ سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال اسلام آباد ایئرپورٹ سے 38 ہزار سے زائد عازمین اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے جبکہ پشاور کے عازمین بھی اسلام آباد سے سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری حج سکیم کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار عازمین کو دو اقساط میں رقم ادائیگی کی سہولت دی گئی تھی جس پر عوام نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ حج سکیم میں بھی اصلاحات لائی جا رہی ہیں تاکہ نجی شعبے کے ذریعے جانے والے حجاج کو بھی معقول پیکیج اور بہتر سہولیات میسر آسکیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں شکایات میں نمایاں کمی آئی ہے اور بہترین انتظامات پر سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان کو’’ایکسلینس ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا ہے، اب ہمارا ہدف ٹاپ تھری ممالک میں شامل ہونا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حجاج کی خدمت پر مامور سرکاری عملے کا نام معاونین حج سے تبدیل کر کے دوبارہ خدام الحجاج کر دیا گیا ہےکیونکہ سعودی فرمانروا بھی خود کو خادمِ حرمین الشریفین کہلانے پرفخر محسوس کرتے ہیں اور ہم نے اسی کی تقلید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام سرکاری حجاج کے لئے العزیزیہ اور بطحاء قریش میں مساوی سہولیات والی عمارتیں حاصل کی گئی ہیں ۔حج تربیتی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ تربیت کا دوسرا مرحلہ رمضان المبارک کے بعد شروع ہوگا جس میں تمام امور، ویکسی نیشن اور دیگر سہولیات کے بارےتفصیل کے ساتھ آگاہی فراہم کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ حج ایک مشقت اور آزمائش کا عمل ہے جس کے لئے صبر اور برداشت کا مظاہرہ لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور نے 22 نکاتی رہنمائی اصول مرتب کیے ہیں جن پر عمل کرکے مناسکِ حج کی ادائیگی آسان بنائی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے عازمین کو تاکید کی کہ حرمین الشریفین کے قوانین اور ضابطوں کا خاص خیال رکھا جائے اور وہاں سنت کے مطابق عبادات پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض لوگ طواف یا روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے دوران موبائل فون پر تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مصروف رہتے ہیں جس سے عبادت کا اصل مقصد متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حجرِ اسود کو بوسہ دیتے وقت دوسروں کو تکلیف دینے سے گریز کیا جائے کیونکہ دور سے سلام کرنا بھی مسنون عمل ہے۔