حج 2025 اپنے عروج پر پہنچ گیا ،حجاج کرام وقوف ِ عرفان ادا کرنے کیلئے کوہِ عرفات پر جمع ہو گئے، امسال خطبہ حج 35 زبانوں میں نشر کیا گیا

عرفات۔5جون (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں عازمین حج جمعرات کے روز وقوفِ عرفات ادا کرنے کے لیے کوہِ عرفات، جسے جبل الرحمہ بھی کہا جاتا ہے، پر جمع ہوئے جو کہ حج کے عروج کی اہم رسم ہے ۔لبیک اللہ اللھم لبیک..." ("میں حاضر ہوں، اے خدا، میں تیری پکار کا جواب دے رہا ہوں...") کے نعرے لگاتے ہوئے، متعدد نمازیوں نے منیٰ سے عرفات تک بسوں …

عرفات۔5جون (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں عازمین حج جمعرات کے روز وقوفِ عرفات ادا کرنے کے لیے کوہِ عرفات، جسے جبل الرحمہ بھی کہا جاتا ہے، پر جمع ہوئے جو کہ حج کے عروج کی اہم رسم ہے ۔لبیک اللہ اللھم لبیک…” ("میں حاضر ہوں، اے خدا، میں تیری پکار کا جواب دے رہا ہوں…”) کے نعرے لگاتے ہوئے، متعدد نمازیوں نے منیٰ سے عرفات تک بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے سفر کیا، مقدس میدانوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے سفر کو یقینی بنایا گیا ۔

پاکستان حج مشن نے عازمین حج کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی روانگی کے مقررہ اوقات پر عمل کریں تاکہ زیادہ بھیڑ اور شدید گرمی سے محفوظ رہا جا سکے۔سعودی حکام نے مقدس مقامات کے درمیان نقل و حرکت کے تمام مراحل پر حکومت کے طے کردہ نظام الاوقات پر سختی سے عمل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ یہ اجتماع اتحاد اور عقیدت کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ حج کے دن پر عازمین خدا کی رحمت کے حصول کے لیے دعاؤں میں مشغول ہوتے ہیں۔سخت موسمی حالات کے پیش نظر سعودی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کرتے ہوئے حجاج کرام نے مسجد نمرہ سے اپنے خیموں میں خطبہ حج سنا۔

امسال خطبہ حج 35 زبانوں میں نشر کیا گیا اور عالمی سطح پر رسائی کو یقینی بناتے ہوئے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈیجیٹل طور پر نشر کیا گیا۔ عازمین ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کر کے عرفات میں قیام اور پورا دن عبادت میں گزارتے ہیں۔ غروب آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرتے ہیں اور رات کھلے آسمان تلے گزارتے ہیں۔حجاج کرام مزدلفہ سے کنکریاں بھی جمع کرتے ہیں تاکہ رمی یعنی شیطان کو سنگسار کرنے کی رسم ادا کی جا سکے۔

مزدلفہ میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حجاج مناسک حج کے لیے منیٰ روانہ ہوں گے۔مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن نے تازہ ترین سعودی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ’رمی الجمارات‘ اور جانوروں کی قربانی کے لیے مخصوص رہنما خطوط کا اعلان کیا ہے،ہر مکتب نے 10 ذی الحجہ کو ’’رمی‘‘ کے لیے اوقات مقرر کیے ہیں اور ہر ناظم کو یقینی بنانا چاہیے کہ عازمین حج اپنی مختص جگہ کے مطابق رسم ادا کریں۔ حجاج کرام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ناظم کی نگرانی میں گروپس میں آگے بڑھیں۔حجاج 11 ذوالحجہ کو فجر کی نماز کے بعد ’’حلق ‘‘(سر منڈوانے) یا قصر (بال چھوٹے کرنے) کے بعد حالت احرام سے باہر نکلتےہیں۔

سعودی حکام نے پاکستانی حجاج کی قربانی کا وقت 10 اور 11 ذی الحجہ کی درمیانی شب 12:30 بجے مقرر کیا ہے۔ حجاج کرام کو پہلے دن کی ’’رمی‘‘ آدھی رات سے پہلے مکمل کرنی چاہیے۔ڈائریکٹر جنرل حج عبدالوہاب سومرو نے ’’اے پی پی‘‘ کو بتایا کہ پاکستانی عازمین حج کے لیے جامع سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے،اس وقت 73 فیصد پاکستانی عازمین منیٰ سے ٹرین کے ذریعے سفر کر چکے ہیں جبکہ بقیہ بسوں کے ذریعے عرفات پہنچے ہیں،حجاج کی بہبود کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً 400 میڈیکل اور پیرامیڈیکل افسران کو مختلف صحت کے مراکز میں تعینات کیا گیا ہے،ان میں مکہ مکرمہ میں ایک مکمل لیس ہسپتال اور 9 ڈسپنسریاں، مدینہ منورہ میں ایک ہسپتال اور 2 ڈسپنسریاں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کا وسیع نیٹ ورک چوبیس گھنٹے ہنگامی دیکھ بھال اور معمول کی طبی خدمات فراہم کرتا ہے۔

مزید خبریں